- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 2
- باب :یقین اور توکل کا بیان
- حدیث نمبر 84
حدیث مبارکہ
عَنْ أَنَسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ: کَانَ اَخَوَانِ عَلَی عَہْدِ النَّبِیّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، وَکَانَ اَحَدُہُمَا یَأْتِی النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، وَالْاٰخَرُ یَحْتَرِفُ، فَشَکَا الْمُحْتَرِفُ اَخَاہُ لِلنَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:
لَعَلَّکَ تُرْزَقُ بِہ. ( )
عن أنس رضی اللہ عنہ قال: کان اخوان علی عہد النبی صلی اللہ علیہ وسلم، وکان احدہما یأتی النبی صلی اللہ علیہ وسلم، والاخر یحترف، فشکا المحترف اخاہ للنبی صلی اللہ علیہ وسلم فقال:
لعلک ترزق بہ. ( )
حدیث ترجمہ
:حضرت سَیِّدُنَاانسرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے حضورنبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے زمانۂ اقدس میں دو بھائی تھے، ایک بارگاہ نبوی میں حاضر رہتا اور دوسرا کام کاج کرتا تھا ، کام کرنے والے نے حضور نبی اکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے اپنے بھائی ( کے کام نہ کرنے ) کی شکایت کی تو آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ’’ شاید تجھے اس کی برکت سے ہی رزق دیا جا رہا ہو ۔ ‘‘
شرح حدیث
دو بھائی اور اُن کے کام:عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیفرماتے ہیں : ’’ ان دو بھائیوں میں سے ایک حضور نبی رحمت شفیع اُمَّتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے پاس علم و حکمت کی باتیں سیکھنے آتا اور دوسرا کام کاج کرتا تھا اور ان کا کھانا پینا ایک ساتھ تھا ۔کام کرنے والے نے آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں اپنے بھائی کی شکایت کی کہ نہ یہ خود کماتا ہے، نہ میرے ساتھ کام کرتا ہے۔آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا :میرا گمان ہے کہ تیری کمائی سے اسے رزق نہیں مل رہا بلکہ تجھے اس کی وجہ سے رزق مل رہا ہے۔ لہٰذاتو اس پر اپنی کمائی کا احسان مت جتا۔ ‘‘ ( )طالبِ علم کے سرپرست پر کرم:’’لَعَلَّکَ تُرْزَقُ بِہِشاید تجھے اس کی برکت سے ہی رزق دیا جا رہا ہو۔ ‘‘ دلیل الفالحین میں ہے: ’’ سرکار دو عالَم نورِمُجَسَّمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس کے بھائی کے طلب معاش نہ کرنے اور اس کے اکیلے کمانے پر اسے تسلی دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ ہوسکتا ہے کہ اپنے بھائی کی وجہ سے تمہارا طلبِ معاش کے لیے نکلنا تمہارے رزق کی آسانی کا سبب ہو کیونکہ جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد کرتا رہتا ہےاللہ عَزَّ وَجَلَّاس کی مدد فرماتا رہتا ہے۔ ایک اور حدیث میں ہے:”تمہیں تمہارے کمزوروں کے سبب رزق ملتا ہے۔“
حدیثِ مذکور میں اس بات پر تنبیہ ہے کہ جو شخص لوگوں سے امیدیں منقطع کر کےاللہ عَزَّ وَجَلَّکی طرف متوجہ ہوجاتا اوراپنی تدابیر چھوڑ کراللہ عَزَّ وَجَلَّکی تدبیر پر بھروسہ کرتا ہے تواللہ عَزَّ وَجَلَّاسے کافی ہوجاتا ہے۔ ایک حدیثِ پاک میں ہے کہ: ’’ طالبِ علم کا رزقاللہ عَزَّ وَجَلَّکے ذمہ کرم پر ہے۔ ‘‘ یعنیاللہ عَزَّ وَجَلَّطالب علم کی ضروریات و حاجات آسانی سے پوری فرمادیتا ہے اور اس کی رحمت طالبِ علم کے سرپرست کی طرف متوجہ ہوتی ہے اور سب کاموں میں اس کی کفایت کی جاتی ہے۔ ‘‘( )¥رِزْق میں برکت کا بہترین ذریعہ:مُحَقِّقْ عَلَی الْاِطْلَاق شَیْخ عَبْدُ الْحَقّ مُحَدِّث دِہْلَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ اس شخص نے حضورنبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں اپنے بھائی کی شکایت کرتے ہوئے کہا کہ اس نے سارا بوجھ مجھ پر ڈال دیا ہے اسے میری مدد کرنی چاہیے تو آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس شخص کو بھائی کی کفالت کرنے پر صبر و ہمت کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا کہ جو کچھ توکماکراپنے بھائی پر خرچ کرتا ہے یہ سب رزق تجھے اسی کی برکت سے دیا جاتا ہے۔حدیث مذکور اس بات پر واضح دلیل ہے کہ فقراء بالخصوص اپنے قریبی رشتہ داروں کی کفالت کرنا رزق میں برکت کا بہترین ذریعہ ہے۔ ‘‘ ( )دین کےلیے وقف ہونا:مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّاناس حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں : ’’ یہ شخص اپنے کو خدمت دین کے لیے وقف کر چکا تھا، حضور (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کے پاس علم دین سیکھنے آتاتھا، یہ رسم آج تک چلی آرہی ہے کہ بعض لوگ اپنے کو علم دین کے لیے وقف کردیتے ہیں اور مسلمان اُن کا خرچہ اٹھا تے ہیں اصحاب صفہ بھی ایسے ہی لوگ تھے۔معلوم ہوا کہ طالب علم کی خدمت کرنا خرچہ دینا بہت بڑی عبادت ہے ۔ (فرمایا:شاید تجھے اس کی برکت سے ہی رزق دیا جا
رہا ہے) تو اسے علم دین سیکھنے دے، اس کا خرچہ تو برداشت کیے جا،اللہ تعالٰیاس کا رزق تیرے دستر خوان پربھیجے گا ، تجھے برکتیں ہوں گی ، اِس فرمانِ عالی سے چند مسئلے معلوم ہوئے:
(۱) ایک یہ کہ بعض لوگوں کا اپنے کو علم دین کے لیے وقف کردینا سنت صحابہ ہے۔ عالم دین بننا فرض کفایہ ہے بقدرِ ضرورت علم دین سیکھنا ہر مسلمان پر فرض عین ہے۔ (۲) دوسرے یہ کہ ان طالب علموں کا خرچہ مسلمانوں کو اٹھانا چاہیے، اِنْ شَآءَ اللہاس میں بڑی برکت اور بڑا ثواب ہے۔ (۳) تیسرے یہ کہ اپنے غریب قرابت داروں کی مدد کرنا بڑی برکت کا باعث ہے۔ ربّتعالٰیفرماتا ہے:وَ اٰتِ ذَا الْقُرْبٰى حَقَّهٗ وَ الْمِسْكِیْنَ وَ ابْنَ السَّبِیْلِ(پ۱۵، بنی اسرائیل:۲۶)ترجمۂ کنزالایمان: اور رشتہ داروں کو ان کا حق دے اور مسکین اور مسافر کو۔
اور جب ایک شخص غریب بھی ہو، قرابت دار بھی اور طالب علم بھی اس پر خرچہ کرنانُورٌ عَلٰی نُورہے۔ خیال رہے!حضور انور کا”لَعَلَّیعنی شاید ‘‘ فرمانا ”شک“کے لیے نہیں ۔ کریموں کی ”شاید“ بھی یقینی بلکہحَقُّ الْیَقِیْنِیْہوتی ہے۔ ‘‘ ( )
¥مدنی گلدستہ
’’ رزق حلال کمائیـے ‘‘ کے13حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے13مدنی پھول
(1)صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکا یہ معمول تھا کہ وہ علم دین کے حصول کے لیے ہر وقت بارگاہِ رسالت میں حاضر رہا کرتے تھے۔
(2) حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ سے علم دین جیسی عظیم دولت سمیت ربّتعالٰیکی ہر نعمت نصیب ہوتی ہے۔
(3) طالب علم کی برکت سے اُس کے والدین یا سرپرست وغیرہ کا رزق بڑھا دیا جاتا ہے۔
(4) طالب علم کا رزقاللہ عَزَّ وَجَلَّکے ذمۂ کرم پر ہے۔
(5) جو اپنے رزق میں وُسعت،اللہ عَزَّ وَجَلَّکی رحمت اور دین ودنیا کی بھلائی کا خواہاں ہو، اسے چاہیے کہ دینی طلبہ کے ساتھ خیر خواہی کر ے۔
(6) جو سب کچھ چھوڑ کراللہ عَزَّ وَجَلَّپر توکل کرتے ہوئے علمِ دین سیکھنے میں مشغول ہو جاتا ہےاللہ عَزَّ وَجَلَّبغیر کَسْب کے اُسے رزق عطا فرماتا ہے۔
(7)اللہ عَزَّ وَجَلَّکے بعض نیک بندے ایسے بھی ہوتے ہیں جن کے سبب دوسروں کو رزق دیا جاتا ہے۔
(8) اپنے آپ کو علم دین کے لیے وقف کردینا صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکی سنت ہے۔
(9) دینی طلبہ کی حوصلہ اَفزائی کرنا ان کے ساتھ خیر خواہی کرنا بہت اچھا عمل بلکہ عبادت ہے ۔
(10) اگر کسی کواللہ عَزَّ وَجَلَّنے اس بات کی توفیق بخشی ہے کہ وہ راہِ خدا میں اپنے کسی قریبی عزیز، رشتہ دار ، دوست احباب وغیرہ کے ساتھ خیر خواہی کرتے ہوئے ان پر خرچ کررہا ہے تو اسے چاہیے اس پر اِحسان نہ جتائے بلکہاللہ عَزَّوَجَلَّکا فضل وکرم جانے اور اُس کا شکر ادا کرے۔
(11) جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد کرتا رہتا ہےاللہ عَزَّ وَجَلَّبھی اس کی مدد فرماتا رہتا ہے۔
(12) فُقراء بالخصوص اپنے قریبی رشتہ داروں کی کفالت کرنا رزق میں برکت کا بہترین ذریعہ ہے۔
(13) ہمیں اپنے متعلقین کی خبر گیر ی کرتے رہنا چاہیے اور جتنا ممکن ہو اُن کی امداد کرنی چاہیے کہ جب تک بندہ اپنے مسلمان بھائی کی مدد کرتا رہتا ہےاللہ عَزَّ وَجَلَّاس کی مدد فرماتا رہتا ہے۔اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں توکل کی دولت عطا فرمائے، حصول علم دین کا ذوق وشوق عطا فرمائے، علم دین سیکھنے سکھانے والوں کیاللہ عَزَّ وَجَلَّکی رضا کے لیے خیر خواہی کرنے کی توفیق عطافر مائے، رزقِ حلال کمانے اور اپنے گھروالوں کو بھی حلال کھلانے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 2 , حدیث نمبر: 84