- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 2
- باب :یقین اور توکل کا بیان
- حدیث نمبر 78
حدیث مبارکہ
عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ اَنَّهُ غَزَا مَعَ النَّبِیِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِبَلَ نَجْدٍ، فَلَمَّا قَفَلَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَفَلَ مَعَهُمْ، فَاَدْرَكَتْهُمُ الْقَائِلَةُ فِي وَادٍكَثِيرِ الْعِضَاهِ، فَنَزَلَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَفَرَّقَ النَّاسُ يَسْتَظِلُّونَ بِالشَّجَرِ ، وَنَز َلَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَحْتَ سَمُرَ ةٍ فَعَلَّقَ بِهَا سَيْفَهُ وَنِمْنَا نَوْمَةً، فَاِذَارَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُوْ نَا وَ اِذَا عِنْدَهُ اَعْرَابِيٌّ، فَقَالَ: اِنَّ هَذَا اِخْتَرَ طَ عَلَيَّ سَيْفِي وَاَنَا نَائِمٌ، فَاسْتَيْقَظْتُ وَهُوَ فِي يَدِهِ صَلْتًا، قَالَ:مَنْ يَمْنَعُكَ مِنِّي؟ فَقُلْتُ:اَللَّهُ ثَلَاثًا، وَلَمْ يُعَاقِبْهُ وَجَلَسَ. ( )
وَفِی رِوَایَۃٍ قَالَ جَابِرٌ :كُنَّامَعَ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَاتِ الرِّقَاعِ، فَاِذَااَتَيْنَا عَلَى شَجَرَةٍ ظَلِيْلَةٍ تَرَكْنَاهَا لِرَسُوْلِ اللہِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَرَجُلٌ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ، وَسَيْفُ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُعَلَّقٌ بِالشَّجَرَ ةِ فَاخْتَرَطَهُ فَقَالَ: تَخَافُنِي؟ قَالَ : لَا، قَالَ: فَمَنْ يَّمْنَعُكَ مِنِّي؟ قال:اَللَّهُ. ( )
وَفِی رِوَایَۃِ اَبِي بَكْر الاِسْمَاعِيْلِيِّ فِي صَحِيْحِهِ: قَالَ:مَنْ يَمْنَعُكَ مِنِّي؟ قَالَ: اَللَّهُ فَسَقَطَ السَّيْفُ مِنْ يَدِهِ، فَاَخَذَرَسُوْلُ اللہِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السَّيْفَ فَقَالَ : مَنْ يَمْنَعُكَ مِنِّي؟ فَقَالَ:كُنْ خَيْرَ اٰخِذٍ، فَقَالَ:
تَشْهَدُ اَنْ لَا اِلٰهَ اِلَّا اللهُ وَاَنِّي رَسُوْلُ الله؟ قَالَ: لَا، وَلٰكِنِّي اُعَاهِدُكَ اَنْ لَا اُقَاتِلَكَ وَلَا اَ كُوْنَ مَعَ قَوْمٍ يُقَاتِلُوْنَكَ فَخَلَّى سَبِيْلَهُ، فَاَ تَى اَصْحَابَهُ فَقَالَ:جِئْتُكُمْ مِنْ عِنْدِ خَيْرِ النَّاسِ. ( )
عن جابر رضي الله عنه انه غزا مع النبی صلى الله عليه وسلم قبل نجد، فلما قفل رسول الله صلى الله عليه وسلم قفل معهم، فادركتهم القائلة في وادكثير العضاه، فنزل رسول الله صلى الله عليه وسلم وتفرق الناس يستظلون بالشجر ، ونز ل رسول الله صلى الله عليه وسلم تحت سمر ة فعلق بها سيفه ونمنا نومة، فاذارسول الله صلى الله عليه وسلم يدعو نا و اذا عنده اعرابي، فقال: ان هذا اختر ط علي سيفي وانا نائم، فاستيقظت وهو في يده صلتا، قال:من يمنعك مني؟ فقلت:الله ثلاثا، ولم يعاقبه وجلس. ( )
وفی روایۃ قال جابر :كنامع رسول اللہ صلى الله عليه وسلم بذات الرقاع، فاذااتينا على شجرة ظليلة تركناها لرسول اللہ صلى الله عليه وسلم فجاءرجل من المشركين، وسيف رسول اللہ صلى الله عليه وسلم معلق بالشجر ة فاخترطه فقال: تخافني؟ قال : لا، قال: فمن يمنعك مني؟ قال:الله. ( )
وفی روایۃ ابي بكر الاسماعيلي في صحيحه: قال:من يمنعك مني؟ قال: الله فسقط السيف من يده، فاخذرسول اللہ صلى الله عليه وسلم السيف فقال : من يمنعك مني؟ فقال:كن خير اخذ، فقال:
تشهد ان لا اله الا الله واني رسول الله؟ قال: لا، ولكني اعاهدك ان لا اقاتلك ولا ا كون مع قوم يقاتلونك فخلى سبيله، فا تى اصحابه فقال:جئتكم من عند خير الناس. ( )
حدیث ترجمہ
حضرتسَیِّدُنَاجابررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ وہ حضورنبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ہمراہ نجد کی طرف جہاد کے لیے گئے۔جب آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمواپس ہوئے تو وہ بھی دیگر صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکے ساتھ آپ کے ہمراہ تھے۔واپسی میں اُن حضرات کو دوپہر کا وقت ایسی وادی میں ہوا جہاں بکثرت کانٹے داردرخت تھے۔سرکارِ دوعالَم نورِمُجَسَّمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمقیام کے اِرادے سے وہاں ٹھہر گئے۔پس صحابۂ کرام درختوں کاسایہ لینے الگ الگ مقامات پر چلے گئے۔حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمبھی ایک کانٹے دار درخت کے نیچے تشریف لائے اور اپنی تلواراُس پر لٹکا دی۔ ( راوی کہتے ہیں کہ ) ہم ابھی سوئے ہی تھے کہ اچانک آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ہمیں بلایا، ہم حاضر خدمت ہوئے تو آپ کے پاس ایک اعرابی تھا۔آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: ’’ میں سو رہا تھا کہ اِس نے مجھ پرمیری تلوارتان لی۔میں بیدارہوا تو اِس کے ہاتھ میں ننگی تلوارتھی، اِس نے کہا:آپ کومجھ سے کون بچائے گا؟ میں نےتین بار کہا:اللہ عَزَّ وَجَلَّ۔ ‘‘ پھرآپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اُس سے کوئی بدلہ نہ لیا اوروہ بیٹھ گیا ۔
ایک روایت میں حضرتِ سَیِّدُنا جابررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُیوں فرماتے ہیں کہ ہم ’’غزوۂ ذاتُ الرِّقاع‘‘ میں حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ہمراہ تھے۔ہم ایک سایہ دار درخت کے پاس پہنچے تو وہ ہم نے آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے لیے چھوڑ دیا۔مشرکین میں سے ایک شخص آیا اور آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی درخت پر لٹکی ہوئی تلواراُتار کرکہنے لگا: ’’ تم مجھ سے ڈرتے ہو؟ ‘‘ آپ نے فرمایا: ’’ نہیں ۔ ‘‘ اس نےکہا: ’’ تمہیں مجھ سے کون بچائےگا ؟ ‘‘ فرمایا: ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّ۔ ‘‘
ابوبکر اِسماعیلی کی جو رِوایت اُن کی صحیح میں ہےاُس روایت میں یوں ہے کہ اس نے کہا : ’’ تمہیں مجھ سے کون بچائے گا؟ ‘‘ فرمایا : ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّ۔ ‘‘ یہ سنتے ہی اُس کے ہاتھ سے تلوارگرگئی،رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے تلواراُٹھاکر فرمایا: ’’ اب تجھے مجھ سے کون بچائے گا؟ ‘‘ اس نے کہا: ’’ آپ بہترین پکڑ فرمانے والے ہو جائیے۔ ‘‘ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا : ’’ کیا تو اس بات کی گواہی دیتا ہے کہاللہ عَزَّوَجَلَّکے سوا کوئی معبود نہیں اورمیںاللہ عَزَّ وَجَلَّکا رسول ہوں ؟ ‘‘ بولا: ’’ نہیں ۔لیکن میں وعدہ کرتا ہوں کہ آئندہ کبھی آپ سے نہ لڑوں گا اور نہ آپ سے لڑنے والوں کا ساتھ دوں گا۔ ‘‘ پس آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اُسے چھوڑ دیا ۔تو وہ اپنے ساتھیوں کے پاس چلاگیا اور کہا : ’’ میں ایسےشخص کے پا س سے آیا ہوں جو لوگوں میں سب سے بہتر ہیں ۔ ‘‘
شرح حدیث
توکل کی اعلیٰ ترین مثال:میٹھے میٹھےاسلامی بھائیو! مذکورہ حدیث پاک شہنشاہ مدینہ قرار قلب وسینہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی شجاعت وبہادری اور توکلِ خالص کی اعلیٰ ترین مثال ہے کہ طاقتور دشمن تلوار لیے سامنےہے اورتنِ تنہا ہونے کے باوجود نہ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمخوفزدہ ہوئے، نہ ہی آپ پر کچھ گھبراہٹ طاری ہوئی۔ آپ کو اپنے ربّ کریم پر کامل بھروسہ تھا کہ وہی حافظ وناصر ہے ۔ربّتعالٰیفرماتا ہے:وَ اللّٰهُ یَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِؕ-(پ۶، المائدۃ:۶۷)ترجمۂ کنزالایمان: اوراللہتمہاری نگہبانی کرے گا لوگوں سے۔
پس آپ نے اپنامعاملہ ربّ قدیرکےسپر د کرتے ہوئےجیسے ہی اُس کا نام اَقدس لیاتواس مشرک پر ہیبت طاری ہوگئی، کانپنے لگا اور ڈر کے مارے تلوار ہاتھ سے گر گئی۔آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے وہ تلواراُٹھالی۔اب وہ مشرک بے بس ہو گیا۔ آپ چاہتے تو اُسے سزادیتےمگرآپ نےحِلم وبُردباری کامظاہرہ کرتے ہوئے ا ُسے کچھ نہ کہا، بلکہ اُسے چھوڑ دیا۔سُبْحَانَ اللہہمارے پیارے نبیصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکیسے عظیم اَخلاق کے مالک تھے ۔ اعلیٰ حضرت، اِمامِ اہلسنت، مُجَدِّدِدِین وملت پروانۂ شمع رسالت، مولانا شاہ امام اَحمدرضا خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنآپ کے اَخلاقِ کریمانہ یوں بیان فرماتے ہیں :
تِرے خُلْق کو حق نے عظیم کہا، تِری خِلْق کو حق نے جمیل کیا
کوئی تجھ سا ہوا ہے نہ ہوگا شہا، ترے خالقِ حسن و اَدا کی قسم
¥نجد کی وضاحت اور غیب کی خبر:حدیث میں نجد کا تذکرہ ہے، اِس کے تحت مرآۃ المناجیح میں ہے: ’’ نجدکےلفظی معنی ہیں اونچی زمین۔اصطلاح میں عرب کے ایک مشہور صوبہ کا نام نجدہے۔ عرب کے پانچ صوبے ہیں ، حجاز، عراق، بحرین ، نجد، یمن۔چونکہ نجد کی زمین حجاز سے اونچی ہے، اِس لیے اِسے نجد کہتے ہیں ۔وسیع راستہ کو نجد کہا جاتا ہے۔نجدکا علاقہ تِہَامہ اور عراق کے درمیان ہے۔ ‘‘ ( ) نجد (موجودہ ریاض) کے بارے میں غیب دان نبی اَکرم نورِمُجَسَّمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے غیب کی خبر دیتے ہوئے فرمایا: ’’ھُنَاکَ الزَّلازِلُ وَالْفِتَنُ، وَ بِھَا یَطْلُعُ قَرْنُ الشَّیْطَانِیعنی نجد سے فتنے اٹھیں گے اور اُسں سے شیطان کا گروہ نکلے گا۔ ‘‘ ( )¥رسول اللہکی عَطاؤں کا طلبگار:مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّاناس حدیث کے تحت فرماتے ہیں : ’’ (اعرابی نےکہا:آپ بہترین پکڑ فرمانے والے ہو جائیے۔) یعنی آپ مجھے اس حرکت کا بہترین بدلہ دیجئےکہ خطا میں نے کرلی ہے، عطا آپ کردو۔گناہ میں نے کرلیا، معافی آپ دےدیجئے، جس لائق میں تھا وہ میں نے کرلیا، جو آپ کی شان عالی کے لائق ہے وہ آپ کرو۔ پھل والے درخت کو پتھر مارتے ہیں تو وہ اُن پر پھل گراتا ہے۔ ( میں وعدہ کرتا ہوں کہ آئندہ نہ کبھی آپ سے لڑ وں گا اور نہ ہی آپ سے لڑنے والوں کا ساتھ دوں گا) یعنی میں منافق نہیں ہوں کہ دل میں کفر رکھوں اور زبان سے کلمہ پڑھ دوں ، ہاں اتنا وعدہ ہے کہ کبھی آپ سے مقابل نہ آؤں گا، آپ کے سامنے میری آنکھ نہ اُٹھے گی۔ (پس آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اسے چھوڑ دیا) یعنی اس سے فرمایا :جا! تجھے اجازت ہے، ہم تجھےمعافی دیتے ہیں۔حضور (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) نےاسے اپنے دامنِ کرم میں بلایا تھا مگر وہ آیا نہیں ۔ شعرکرکے تمہارے گناہ مانگیں تمہاری پناہ ……… تم کہو دامن میں آ تم پہ کروڑوں درود
اے میرے ربّ!جب تیرے بندے محمدمصطفےٰ (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کے رحم خسروانہ، عنایت شاہانہ کا یہ حال ہے تو مولی! تُو تو اُن کا ربّ ہے،اَرْحَمُ الرّاحِمِیْنہے، تیرے کرم و عفو و سخا کا کیا پوچھنا، میرے مولیٰ! انہیں رؤف رحیم محبوب کا صدقہ ہم مجرموں سے در گزر فرما ، معافی دے دے ۔شعرمَہْ فَشَانَدْ نُوْرسَگْ عُوْعُوْ کُنَدْ………ہَرْ کَے بَرْ طِیْنَتْ خُودْ مِیْ کُنَدْ(یعنی ) جب چاند چمکتا ہے تو کتا اس پر بھونکتا ہوا حملہ کرتا ہوااُچھلتا ہے توچانداُس کے کھلے ہوئے منہ میں نُور ڈال دیتا ہے۔حضورچاند ہیں ، اُس دشمن کو بھی اِیمان دے رہے ہیں ۔ (اَعرابی اپنے ساتھیوں کے پاس آیا اور کہا :میں بہترین اِنسان کے پاس سے آرہا ہوں ) معلوم ہوتا ہے کہ اُس کا بدن تو آزاد ہوگیا مگر د ل مقید ہو گیا۔ کیا تعجب ہے کہ بعد میں اُسے ایمان بھی نصیب ہوگیاہو۔وَاللہُ وَرَسُوْلُہُ اَعْلَمُ( )حدیث میں مذکور جنگ کا پس منظر:زُرْقَانِیْ عَلَی الْمَواھِبمیں ہے کہ ربیع الاول۳ ہجری میں حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکویہ خبر ملی کہ مدینہ منورہ پر حملہ کرنے کے لیے نجد کے مشہور بہادر ’’دُعْثُوربن حارث مُحَارِبِی‘‘ نے ایک بڑی فوج تیار کر لی ہے۔چنانچہ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماپنے 450 جاں نثار صحابۂ کرامرضوانُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِم اَجْمَعِیْنکا لشکر لے کرنجد پہنچ گئے۔جب دُعثور کو معلوم ہوا کہمحمد(صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) ہمارے علاقے میں پہنچ چکے ہیں تو وہ اپنےساتھیوں کولے کرپہاڑوں کی جانب بھاگ گیامگر ’’ حبان ‘‘ نامی ایک شخص کو گرفتار کر لیا گیا۔ حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اُسےاِسلام کی دعوت دی تو وہ کلمہ پڑھ کر مسلمان ہوگیا۔اُس دن شدیدبارش ہوئی تھی، آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے کانٹے دار درخت پر اپنے کپڑے سکھانے کے لیے پھیلادیئے اور وہیں آرام فرمانے لگے ۔پہاڑ پر موجود کفار آپ کو دیکھ رہے تھے انہوں نے دُعثور سے کہا کہ محمد اکیلے ہیں ، یہ اچھاموقع ہے، جا کراُن پرحملہ کردو۔چنانچہ دُعثورجلدی سے آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے پاس آیا اورتلوار بلند کر کے کہا: ’’ اب تمہیں مجھ سے کون بچائےگا؟ ‘‘سَیِّدُ الْمُتَوَکِّلِیْن، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّمیری حفاظت فرمائے گا۔ ‘‘ اتنے میں جبریل امینعَلَیْہِ السَّلَامآئے اور دُعثور کے سینےپر ہاتھ ماراتو تلوار اس کے ہاتھ سے گر گئی۔رسول ﷲصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے تلوار اُٹھاکر فرمایا: ’’ اب تجھےمجھ سے کون بچائے گا؟ ‘‘ دُعثور نے کانپتے ہوئے کہا: ’’ کوئی نہیں ۔ ‘‘ اور پھر وہ پکار اٹھا: ’’اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَاَ نَّکَ رَسُوْلُ اللہ ِیعنی میں گواہی دیتا ہوں کہاللہ عَزَّ وَجَلَّکے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اورآپاللہ عَزَّ وَجَلَّکے رسول ہیں ۔ ‘‘ پھر وہ اِیمان کی دولت سے سرشار ہو کر اپنی قوم کے پاس تشریف لے گئے اوراُنہیں اِسلام کی دعو ت دی اور اُن کے ذریعے بہت سے لوگ دامن اِسلام سے وابستہ ہوئے۔ ‘‘ ( )حدیث میں مذکور چنداُمور کی وضاحت:محدثین کرامرَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامکا اس بارے میں اختلاف ہے کہ اس اعرابی کا نام کیا تھا، یہ واقعہ کس غزوہ میں پیش آیا، زمانہ نبوی میں یہ واقعہ ایک ہی مرتبہ پیش آیا یا ایک سے زیادہ مرتبہ؟ دُعثور اورغويرث دو علیحدہ شخص ہیں یایہ ایک ہی شخص کے دو نام ہیں ؟علامہ بَدْرُ الدِّیْن عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِیفرماتے ہیں : ’’ اس اعرابی کانامغُوَ یْرَث بن حارثتھا۔ خطیب نے اس کا نامغَوْرَکجبکہ علامہ خطابیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِینے اس کانام ’’غُوَ یْرَث‘‘ بتایا۔ابن اسحاقعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الرَّزَاقنے کہا کہ یہ واقعہغزوۂ غَطْفَانمیں پیش آیا۔ ایک قول کے مطابقغزوہ ذی اَمَرّکاواقعہ ہے۔ذِی اَمَرّغطفان میں ایک جگہ کا نام ہے۔ جبکہ علامہ واقدی نے اسےغزوہ اَنمارقرار دیا۔اور ایک قول یہ ہے کہ یہ واقعہ غزوہ ذات الرقاع میں پیش آیا۔ ( )شیخ الحدیث علامہ عبدالمصطفٰےاعظمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ بعض مؤرخین نے تلوار کھینچنے والے واقعہ کوغَزْوَهٔ ذَاتُ الرِّ قَاعکے موقع پر بتایا ہے مگر حق یہ ہے کہ تاریخِ نبوی میں اس قسم کے دو واقعات ہوئے ہیں ۔غَزْوَهٔ غطفانکے موقع پر سر ِانور کے اوپر تلوار اٹھانے والادُعْثُوْربن حَارِث مُحَارِبیتھاجو مسلمان ہو کر اپنی قوم کے اسلام کا باعث بنااورغزوہ ذات الرقاعمیں جس شخص نے حضور اقدسصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر تلوار اٹھائی تھی اس کا نامغَوْرَثتھا۔اس نے اسلام قبول نہیں کیا بلکہ مرتے وقت تک اپنے کفر پر اَڑا رہا۔ہاں البتہ اس نے یہ معاہدہ کر لیا تھا کہ وہ حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے کبھی جنگ نہیں کرےگا۔وَاللہُ اَعْلَمُ بِالصَّوَابِ( )مدنی گلدستہ
سَیِّدُنَا ’’ جبریل ‘‘عَلَیْہِ السَّلَامکے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1)اللہ عَزَّ وَجَلَّسے مدد طلب کرتے وقت تین مرتبہ ’’اللہ‘‘ کہنا مستحب ہے۔ ( )
(2) جانی دشمن پر قابو پانے کے باوجود اسے معاف کر دینا حلم وبرد باری کی اعلیٰ ترین مثال ہے ۔
(3)اللہ عَزَّ وَجَلَّپر کامل بھروسہ کرنے والے کبھی مادی اشیاء سے خوفزدہ نہیں ہوتے ان کی نظر ہمیشہ اپنے ربِّ قدیرعَزَّ وَجَلَّپر ہوتی ہے ۔
(4) انبیاء کرامعَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَاممخلوق میں سب سے زیادہ بہادر ہوتے ہیں اور ان کے اندر قوت برداشت بھی سب سے زیادہ ہوتی ہے ۔
(5) ہمارےپیارے آقا، حضور نبی کریم رؤف ورحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماپنےدشمنوں سے انتقام لینے کے بجائے انہیں معاف فرما دیا کرتےاورآپ کے اس حُسنِ سلوک سے متاثر ہو کر آپ کے جانی دشمن بھی دامن اسلام سے وابستہ ہوکر آپ کے جانثار بن جاتے تھے۔
سُن سُن کے صحابہ کی باتیں جب لوگ مسلماں ہوتے تھے
پھر میرے رسول ِاکرم کی گفتار کا عالَم کیا ہوگااللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں حقیقی توکل عطا فرمائے، عفوودرگزر کی دولت عطا فرمائے۔آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 2 , حدیث نمبر: 78