Main Icon

باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4873

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عبَّاسٍ أَنَّ رَجُلَيْنِ صَلَّيَا صَلَاةَ الظُّهْرِ أَوِ الْعَصْرِ وَكَانَا صَائِمَيْنِ فَلَمَّا قَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ قَالَ: أَعِيْدُوْا وُضُوءَكُمَا وَصَلَاتَكُمَا وَامْضِيَا فِيْ صَوْمِكُمَا وَاَقْضِيَا يَوْمًا آخَرَ . قَالَا: لِمَ يَا رَسُولَ اللّٰهِ؟ قَالَ: اَغْتَبْتُمْ فُلَانًا

وعن ابن عباس أن رجلين صليا صلاة الظهر أو العصر وكانا صائمين فلما قضى النبي صلى الله عليه وسلم الصلاة قال: أعيدوا وضوءكما وصلاتكما وامضيا في صومكما واقضيا يوما آخر . قالا: لم يا رسول الله؟ قال: اغتبتم فلانا

حدیث ترجمہ

روایت ہے ابن عباس سے کہ دو شخصوں نے نماز ظہر یا عصر پڑھی اور وہ دونوں تھے روزہ دار ۱∞؎پھر جب نبی صلی الله علیہ وسلم نے نماز پوری فرمائی تو فرمایا کہ اپنے وضو اپنی نمازیں لوٹاؤ اور اپنے روزوں میں گزر جاؤ (پورےکرلو)اور دوسرے دن ان کی قضا کرو ۲؎وہ بولے یارسول الله کیوں فرمایا تم نے فلاں کی غیبت کی۔

شرح حدیث

۱∞؎یعنی یہ دونوں روزہ داربھی تھے مدینہ منورہ کی سرزمین میں بھی مسجد نبوی شریف میں بھی اور حضور صلی الله علیہ وسلم کے پیچھے انہوں نے نماز بھی پڑھی اتنی خوبیوں کے ساتھ انہوں نے کسی مسلمان کی غیبت بھی کرلی۔
۲
؎قرآن کریم نے غیبت کو مردہ بھائی کا گوشت کھانا قرار دیا ہے"اَنۡ یَّاۡکُلَ لَحْمَ اَخِیۡہِ مَیۡتًا"۔اور ظاہر ہے گوشت کھانے خون پینے سے روزہ بھی ٹوٹ جاتا ہے نمازبھی۔خلاصہ یہ ہے کہ گناہ نیکیوں کا کمال دور کر دیتے ہیں جیسے نیکیاں اصل گناہوں کا زوال کردیتی ہیں،نیز غیبت کی وجہ سے غیبت کرنے والے کی نیکیاں مغتاب کو دے دی جاتی ہیں اس کا روزہ نماز مغتاب کو دے دیا گیا یہ بغیر روزہ نماز رہ گیا لہذا اسے دوبار ادا کرنے کا حکم دیا گیا۔سیدنا عبدالله فرماتے ہیں کہ غیبت سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے نماز پڑھی ہوئی بے کار ہوجاتی ہے ان کی دلیل یہ ہی حدیث ہے۔(مرقات)باقی حضرات فرماتے ہیں کہ اس سے روزہ نماز کا کمال ٹوٹ جاتا ہے بہرحال یہ حکم عالی تنبیہ فرمانے کے لیے ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4873