Main Icon

باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4856

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ وَاثِلَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسلم: لَا تُظْهِرِ الشَّمَاتَتْ لِأَخِيْكَ فَيَرْحَمُہُ اللّٰہُ وَيَبْتَلِيَكَ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ غَرِيْبٌ

وعن واثلة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لا تظهر الشماتت لأخيك فيرحمہ اللہ ويبتليك . رواه الترمذي وقال: هذا حديث حسن غريب

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت واثلہ سے ۱∞؎فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے اپنے بھائی پر لعن طعن ظاہر نہ کرو ۲؎ورنہ الله اس پر رحم کردے گا اور تجھے مبتلا کردے گا ۳؎(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث حسن ہے غریب ہے۔

شرح حدیث

۱∞؎واثلہ ابن اسقع لیثی صحابی ہیں،جب حضور انور غزوہ تبوک کے لیے جارہے تھے تو آپ ایمان لائے،تین سال حضور کی خدمت میں رہے،اصحاب صفہ سے تھے ایک سو برس عمر پائی بیت المقدس میں وفات ہوئی۔ (مرقات) آپ مشہور صحابی ہیں۔
۲
؎یعنی کسی مسلمان کو دینی یا دنیاوی آفت میں مبتلا دیکھ کر اس پر خوشی میں طعن نہ کرو بعض دفعہ خوشی میں بھی کسی پرلاحولپڑھی جاتی ہے۔شیخ سعدی فرماتے ہیں۔شعر
مگو اندوہ خویش پیش کساں کہ لاحول گویند شادی کناں
اگر ملامت کرنا اس کی فہمائش کے لیے ہو تب جائز ہے جب کہ اس طریقہ سے اس کی اصلاح ہوسکے غرضکہ ملامت کی مختلف صورتیں ہیں۔
۳
؎یہ ہے مسلمان کی آفت پر خوشی منانے کا انجام کہ خوشی منانے والا خودگرفتار ہوجاتا ہے بارہا کا آزمودہ ہے ہمیشہ خدا سے خوف کرنا چاہیے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4856