Main Icon

باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4832

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"أَتُدْرُوْنَ مَا أَكْثَرُ مَا يُدْخِلُ النَّاسَ الْجَنَّةَ؟ تَقْوَى اللّٰهِ وَحُسْنُ الْخُلُقِ. أَتُدْرُونَ مَا أَكْثَرُ مَا يُدْخِلُ النَّاسَ النَّارَ؟ الْأَجْوَفَانِ: الْفَمُ وَالْفَرْجُ " رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَه

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:"أتدرون ما أكثر ما يدخل الناس الجنة؟ تقوى الله وحسن الخلق. أتدرون ما أكثر ما يدخل الناس النار؟ الأجوفان: الفم والفرج " رواه الترمذي وابن ماجه

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ ) سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ کیا تم جانتے ہو کہ کون سی چیز زیادہ لوگوں کو جنت میں داخل کرتی ہے الله سے ڈر اور اچھی عادت ۱∞؎کیا جانتے ہو کہ لوگوں کو آگ میں کون چیز زیادہ لے جاتی ہے دو خالی چیزیں منہ اور شرمگاہ ۲؎(ترمذی، ابن ماجہ)

شرح حدیث

۱∞؎تقویٰ کا ادنی درجہ کفر و بدعقیدگی سے بچنا ہے اور درمیانی درجہ گناہوں سے بچنا،اعلیٰ درجہ میں غافل کرنے والی چیز سے بچنا ہے۔یوں ہی خوش خلقی کا ادنی درجہ یہ ہے کہ کسی کو جانی مالی عزت کی ایذا نہ دے،اعلیٰ درجہ یہ ہے کہ برائی کا بدلہ بھلائی سے کرے یہ بہت اعلیٰ چیز ہے جسے خدا تعالٰی نصیب کرے۔
۲
؎یعنی انسان منہ سے کفر بولتا ہے غیبتیں چغلیاں کرتا ہے،نوے فی صدی گناہ منہ سے ہی ہوتے ہیں،شرمگاہ سے گناہ کرتا ہے جو بدترین گناہ ہے عقل کو مغلوب کرنے والی دین برباد کرنے والی چیز شہوت ہے جس کی جگہ شرمگاہ ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4832