Main Icon

باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4864

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حِطَّانَ قَالَ: أَتَيْتُ أَبَا ذَرٍّ فَوَجَدْتُهٗ فِي الْمَسْجِدِ مُحْتَبِيًا بِكِسَاءٍ أَسْوَدَ وَحْدَهٗ. فَقُلْتُ: يَا أَبَا ذَرٍّ مَاهَذِهِ الْوَحْدَةُ؟ فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: الْوَحْدَةُ خَيْرٌ مِنْ جَلِيسِ السُّوءِ وَالْجَلِيسُ الصَّالِحُ خَيْرٌ مِنَ الْوَحْدَةِ وَإِمْلَاءُ الْخَيْرِ خَيْرٌ مِنَ السُّكُوْتِ وَالسُّكُوْتُ خيرٌ مِنْ إِمْلَاءِ الشَّرِّ

وعن عمران بن حطان قال: أتيت أبا ذر فوجدته في المسجد محتبيا بكساء أسود وحده. فقلت: يا أبا ذر ماهذه الوحدة؟ فقال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: الوحدة خير من جليس السوء والجليس الصالح خير من الوحدة وإملاء الخير خير من السكوت والسكوت خير من إملاء الشر

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عمران ابن حطان سے فرماتے ہیں کہ میں حضرت ابوذر کے پاس گیا تو میں نے انہیں ایک کالے کمبل میں اکیلے ٹیک لگائے بیٹھے پایا ۱∞؎میں نے کہا اے ابوذر یہ گوشہ نشینی کیسی تو فرمایا کہ میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ تنہائی بہتر ہے ہر ساتھی سے اور اچھا ساتھی بہتر ہے تنہائی سے ۲؎اور اچھی بات بولنا خاموشی سے بہتر ہے اور خاموشی بہتر ہے بری بات بولنے سے۳؎

شرح حدیث

۱∞؎اس طرح کہ اکڑوں بیٹھے تھے اور اپنے اردگرد کمبل لپیٹا ہوا تھا ہاتھوں کے حلقہ میں پنڈلیاں لیے ہوئے تھے یہ انتہائی تواضع کی بیٹھک ہے۔
۲
؎یعنی چونکہ مجھے اس وقت کوئی نیک صالح ساتھی نہ ملا اس لیے تنہائی کو غنیمت سمجھ کر اکیلا بیٹھ گیا،غالبًا کسی اجنبی جگہ میں ہوں گے مسجد سے مراد مسجد نبوی شریف نہیں کوئی اور مسجد مراد ہے ورنہ اس زمانہ میں مدینہ منورہ میں نیک ساتھی کی کیا کمی تھی خیرالقرون تھا۔
۳
؎یعنی تنہائی میں انسان خاموش بیٹھے گا اور خاموشی اچھی ہے بری بات سے،برے یار کے پاس بیٹھ کر بری باتیں کرنا پڑتی ہیں اس لیے تنہائی بہتر ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4864