Main Icon

باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4869

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَسْلَمَ قَالَ: إِنَّ عُمَرَ دَخَلَ يَوْمًا عَلٰى أَبِيْ بَكْرٍ الصِّدّيق وَهُوَ يَجْبِذُ لِسَانَهُ. فَقَالَ عُمَرُ: مَهْ غَفَرَ اللهُ لَكَ. فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: إِنَّ هٰذَا أَوْرَدَنِيَ الْمَوَارِدَ. رَوَاهُ مَالِكٌ

وعن أسلم قال: إن عمر دخل يوما على أبي بكر الصديق وهو يجبذ لسانه. فقال عمر: مه غفر الله لك. فقال أبو بكر: إن هذا أوردني الموارد. رواه مالك

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت اسلم سے ۱∞؎فرماتے ہیں کہ ایک دن جناب عمر حضرت ابوبکر صدیق کے پاس آئے وہ اپنی زبان کھینچ رہے تھے۲؎تو حضرت عمر نے ان سے عرض کیا ٹھہریئے الله آپ کو بخشے تو ان سے جناب ابوبکر نے فرمایا کہ اس نے مجھے ہلاکت کی جگہوں میں لا ڈالا ۳؎(مالک)

شرح حدیث

۱∞؎آپ تابعی ہیں،آپ کی کنیت ابو خالد ہے،حبشی تھے،حضرت عمر رضی الله عنہ کے آزادکردہ غلام تھے جنہیں حضرت فاروق نے مکہ معظمہ میں ۱۱ھ؁∞ میں خریدا،آپ کی عمر ایک سو چودہ سال ہوئی،مروان کے زمانہ میں وفات پائی، ۸۰؁∞ اسّی ہجری میں۔
۲
؎اپنی زبان شریف کو کھینچ کر مروڑ رہے تھے یا اسے باہر نکال ڈالنے کی کوشش فرمارہے تھے گویا اپنی زبان کو سزا دے رہے تھے۔
۳
؎یہ انتہائی خوفِ خدا کی دلیل ہے حضرت صدیق کی زبان صدق کے سواء کیا بولے گی مگر پھربھی اپنے کو قصور وار کہتے ہیں جیسے حضرات انبیاءکرام نے اپنے کو ظالم خاسر وغیرہ فرمایا،حضور صلی الله علیہ وسلم فرمایا کرتے تھےرب انی ظلمت نفسی ظلما کثیرا۔شعر
زاہداں از گناہ توبہ کنند عارفاں از اطاعت استغفار

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4869