Main Icon

باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4847

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَيْسَ الْمُؤْمِنُ بِالطَّعَّانِ وَلَا بِاللَّعَّانِ وَلَا الْفَاحِشِ وَلَا الْبَذِيِّ .رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الإِيمَانِ .وَفِي أُخْرٰى لَهٗ وَلَا الْفَاحِشِ الْبَذِيءِ .وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ : هٰذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ

وعن ابن مسعود قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ليس المؤمن بالطعان ولا باللعان ولا الفاحش ولا البذي .رواه الترمذي والبيهقي في شعب الإيمان .وفي أخرى له ولا الفاحش البذيء .وقال الترمذي : هذا حديث غريب

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن مسعود سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ مؤمن نہ تو طعنہ باز ہوتا ہے اور نہ لعنت باز نہ فحش گو نہ بے حیا ۱∞؎(ترمذی،بیہقی شعب الایمان)اور بیہقی کی دوسری روایت میں ہے کہ نہ فحش گو بے حیا اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔

شرح حدیث

۱∞؎یعنی یہ عیوب سچے مسلمان میں نہیں ہوتے اپنے عیب نہ دیکھنا دوسرے مسلمانوں کے عیب ڈھونڈھنا ہر ایک کو لعن طعن کرنا اسلامی شان کے خلاف ہے یہ حدیث بہت جامع ہے۔بعض لوگ جانوروں کو،ہوا کو،گالیاں دیتے ہیں،بعض کے ہاں حضرات صحابہ کو گالیاں دینا عبادت ہےنعوذباللهبعض لوگ گالی پہلے دیتے ہیں بات پیچھے کرتے ہیں سب لوگ اس سے عبرت پکڑیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4847