Main Icon

باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4858

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ جُنْدُبٍ قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ فَأَنَاخَ رَاحِلَتَهٗ ثُمَّ عَقَلَهَا ثُمَّ دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَصَلّٰى خَلْفَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا سَلَّمَ أَتٰى رَاحِلَتَهٗ فَأَطْلَقَهَا ثُمَّ رَكِبَ ثُمَّ نَادٰى: اللّٰهُمَّ ارْحَمْنِي وَمُحَمَّدًا وَلَا تُشْرِكْ فِي رَحْمَتِنَا أَحَدًا. فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَتَقُوْلُوْنَ هُوَ أَضَلُّ أَمْ بَعِيرُهُ؟ أَلَمْ تَسْمَعُوا إِلٰى مَا قَالَ؟ قَالُوا: بَلٰى؟ . رَوَاهُ أَبُوْدَاوُدَ وَذُكِرَ حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ : كَفٰى بِالْمَرْءِ كَذِبًا فِي بَاب الِاعْتِصَامِ فِي الْفَصْلِ الْأَوَّلِ

وعن جندب قال: جاء أعرابي فأناخ راحلته ثم عقلها ثم دخل المسجد فصلى خلف رسول الله صلى الله عليه وسلم فلما سلم أتى راحلته فأطلقها ثم ركب ثم نادى: اللهم ارحمني ومحمدا ولا تشرك في رحمتنا أحدا. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: أتقولون هو أضل أم بعيره؟ ألم تسمعوا إلى ما قال؟ قالوا: بلى؟ . رواه أبوداود وذكر حديث أبي هريرة : كفى بالمرء كذبا في باب الاعتصام في الفصل الأول

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جندب سے فرماتے ہیں کہ ایک بدوی آیا اس نے اپنا اونٹ بٹھادیا ۱∞؎پھر اسے باندھ دیا پھر مسجد میں آیا تو رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے پیچھے نما ز پڑھی پھر جب سلام پھیرا تو اپنی سواری کے پاس گیا اسے کھولا اس پر سوار ہوا پھر پکارا الٰہی مجھ پر اور محمد پر رحم فرما اور ہماری رحمت میں کسی اور کو شریک نہ کر ۲؎تو رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کیا کہتے ہو یہ زیادہ بے وقوف ہے یا اس کا اونٹ۳؎کہ کیا تم نے نہ سنا جو اس نے کہا لوگ بولے ہاں۴؎(ابوداؤ د) اور حضرت ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ )کی حدیثکفی بالمرء کذباہم نےباب الاعتصامکی پہلی فصل میں ذکر کردی۔

شرح حدیث

۱∞؎اعرابی یعنی بدوی حضرات اپنے گاؤ ں میں عمومًا رہتے تھے اتفاقًا کبھی شہر میں کسی کام کے لیے آجاتے تھے وہ آداب سے کم واقف ہوتے تھے۔
۲
؎وہ اپنی غلطی سے اس دعا کو بہت اچھا سمجھے اور حضور صلی الله علیہ وسلم کو خوش کرنے کے لیے یہ کہا اس لیے آواز سے کہا کہ حضور انور سن لیں اور خوش ہوجاویں یعنی مجھ پر اور حضور صلی الله علیہ وسلم پر ایسی خاص رحمت کر جوکسی پر نہ ہو۔
۳
؎یہاں ضلالت سے مراد گمراہی یا بدعقیدگی نہیں بلکہ بے وقوفی و جہالت ہے کیونکہ اس نے وسیع رحمت کو تنگ کرنے کی دعا کی یا اس نے حضور صلی الله علیہ وسلم کی رحمت خاصہ میں اپنے کو شریک کیا اس میں بے ادبی ہے اور بظاہر دعویٰ مساوات ہے۔(لمعات)۴؎اس سے معلوم ہوا کہ دعا صرف اپنے واسطے نہیں کرنا چاہیے بلکہ عام صیغوں سے کی جاوے خصوصًا یہ کہنا کہ اور کسی پر رحم نہ کر یہ تو بہت ہی برا ہے۔یہ بھی معلوم ہوا کہ کسی کا ظاہر ظہور عیب اس کی پس پشت بیان کرنا غیبت نہیں کہ حضور انور نے اس کی جہالت صحابہ سے بیان فرمائی جب کہ وہ سن نہ رہا تھا اس لیے یہ حدیث اس باب میں لائی گئی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4858