Main Icon

باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4846

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَمَّارٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ كَانَ ذَا وَجْهَيْنِ فِي الدُّنْيَا كَانَ لَهٗ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لِسَانٌ مِنْ نَارٍ . رَوَاهُ الدَّارمِيُّ

وعن عمار قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من كان ذا وجهين في الدنيا كان له يوم القيامة لسان من نار . رواه الدارمي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عمار سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جو دنیا میں دو منہ والا ہوگا ۱∞؎قیامت کے دن اس کی زبان آگ کی ہوگی ۲؎(دارمی)

شرح حدیث

۱∞؎دو منہ والا وہ شخص ہے جو سامنے تعریف کرے پیچھے برائی یا سامنے دوستی ظاہر کرے پیچھے دشمنی یا دو لڑے ہوئے آدمیوں کے پاس جاوے اس سے ملے تو اس کی سی کہے دوسرے سے ملے تو اس کی سی کہے ہر ایک کا ظاہری دوست بنے۔
۲
؎حدیث شریف بالکل ظاہر پر ہے کسی تاویل کی ضرورت نہیں جو رب دنیا میں مٹی کی زبان دے سکتا ہے وہ قیامت کے بعد آگ کی بھی زبان دے سکتا ہے اس کی قدرت سے کچھ بعید نہیں اس زبان میں جو سوزش اور جلن ہوگی وہ ظاہر ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4846