Main Icon

باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4868

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَائِشَة قَالَتْ: مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَبِي بَكْرٍ وَهُوَ يَلْعَنُ بَعْضَ رَقِيقِهٖ فَالْتَفَتَ إِلَيْهِ فَقَالَ: لَعَّانِيْنَ وَصِدِّيقِينَ؟ كَلَّا وَرَبِّ الْكَعْبَةِ فَأَعْتَقَ أَبُو بَكْرٍ يَوْمَئِذٍ بَعْضَ رَقِيقِهٖ ثُمَّ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ:لَا أَعُودُ. رَوَى البَيْهَقِيُّ الْأَحَادِيثَ الْخَمْسَةَ فِي شُعَبِ الإِيمَانِ

وعن عائشة قالت: مر النبي صلى الله عليه وسلم بأبي بكر وهو يلعن بعض رقيقه فالتفت إليه فقال: لعانين وصديقين؟ كلا ورب الكعبة فأعتق أبو بكر يومئذ بعض رقيقه ثم جاء إلى النبي صلى الله عليه وسلم وقال:لا أعود. روى البيهقي الأحاديث الخمسة في شعب الإيمان

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ نبی صلی الله علیہ وسلم جناب ابوبکر پر گزرے حالانکہ آپ اپنے کسی غلام کو برا بھلا کہہ رہے تھے ۱∞؎تو ان کی طرف توجہ فرما کر فرمایا کہ برا کہنے والے بھی اور صدیق بھی قسم ربِ کعبہ کی ہرگز نہیں ۲؎تو اس دن جناب ابوبکر نے کچھ غلام آزاد کیے۳؎پھر نبی صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے عرض کیا اب کبھی نہ کروں گا۴؎یہ پانچوں حدیثیں بیہقی نے شعب الایمان میں روایت کی۔

شرح حدیث

۱∞؎یہاںلعنتسے لغوی لعنت مراد ہے برا بھلا کہنا یا بددعاکرنا شرعی لعنت جو کفار سے خاص ہے مراد نہیں ورنہ حضور صلی الله علیہ وسلم اس لعنت سے توبہ کراتے۔
۲
؎یعنی تم تو خالق و مخلوق کے نزدیک صدیق ہو پھر تم کسی کو برا بھلا کیسے کہتے ہو یہ دو صفتیں ایک شخص میں جمع نہیں ہوتیں صدیق کے لیے صبر ضروری ہے۔مطلب یہ ہے کہ تم میں یہ عیب نہیں ہونا چاہیے نہایت ہی نفیس نصیحت ہے۔
۳
؎یہ غلام آزاد کرنا اس غلطی کے کفارہ کے لیے تھا جو بلا شعور آپ سے سرزد ہوگئی،یہ ہے انتہائی تقویٰ بھلائیاں برائیوں کو مٹاتی ہیں۔
۴
؎چنانچہ اس کے بعد آپ نے کبھی کسی کو برا بھلا نہ کہا اپنی فطرت کو نبوت کے سانچہ میں ڈھال لیا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4868