Main Icon

باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4852

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يُبَلِّغُنِي أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِي عَنْ أَحَدٍ شَيْئًا فَإِنِّي أُحِبُّ أَنْ أَخْرُجَ إِلَيْكُمْ وَأَنَا سَلِيمُ الصَّدْرِ . رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ

وعن ابن مسعود قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لا يبلغني أحد من أصحابي عن أحد شيئا فإني أحب أن أخرج إليكم وأنا سليم الصدر . رواه أبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن مسعود سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ مجھے کوئی صحابی کسی کی طرف سے کوئی بات نہ پہنچائے ۱∞؎میں چاہتا ہوں کہ تمہارے پاس صاف سینہ آیا کروں ۲؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی اگر کوئی مجھے میرے پیچھے برا کہے تو تم اس کی بات مجھ سے نہ کہو۔خیال رہے کہ یہاں حضور صلی الله علیہ وسلم نے اپنا نام لیا مگر ہم کو قانون بتایا کہ کوئی کسی کی غیبت اس تک نہ پہنچائے ورنہ حضور صلی الله علیہ وسلم تو دلوں کی گہرائیوں کی بات گھروں کے اندرونی حالات سے خبردار ہیں ان سے کوئی چیز مخفی نہیں،نیز کوئی صحابی حضور انور کی شان میں گستاخی نہیں کرتے تھے نہ سامنے نہ پیچھے حضور کی گستاخی کفر ہے۔رہے منافقین حضور انور ان سے ناراض تھے خواہ کوئی انکی بات پہونچاتا یا نہ پہونچاتا ۔بہرحال حدیث بالکل واضح ہے اس پر نہ وہابی اعتراض کرسکتے ہیں نہ شیعہ۔
۲
؎کہ کسی کی عداوت کسی سے نفرت دل میں نہ ہوا کرے یہ بھی ہم لوگوں کے لیے بیان قانون ہے کہ اپنے سینے صاف رکھو تاکہ ان میں مدینہ کے انوار دیکھو ورنہ حضور صلی الله علیہ وسلم کا سینہ رحمت نور کرامت کا گنجینہ ہے وہاں کدورت کی پہنچ نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4852