Main Icon

باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4822

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ: قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَجِدُونَ شَرَّ النَّاسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ذَا الْوَجْهَيْنِ الَّذِي يَأْتِيْ هَؤُلَاءِ بِوَجْهٍ وَهَؤُلَاءِ بِوَجْهٍ . (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعنه: قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: تجدون شر الناس يوم القيامة ذا الوجهين الذي يأتي هؤلاء بوجه وهؤلاء بوجه . (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ تم قیامت کے دن بدترین لوگوں میں دو منہ والے کو پاؤ گے جو ان کے پاس اور منہ سے جاوے اور ان کے پاس اور منہ سے ۱∞؎(مسلم، بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی بدترین بندہ منافق یا چغل خور ہے جو لوگوں میں لڑائی کرانے کے لیے ایک جماعت کے پاس اس کا خیر خواہ بن کر جاوے اور دوسری جماعت سے انہیں بھڑکاوے،دوسری جماعت کے پاس ان کا خیرخواہ بن جاوے انہیں بھڑکاوے لڑائی کراوے۔خدا کی پناہ! یہ عیب فی زمانہ عورت میں بہت زیادہ ہے اس سے توبہ چاہیے اس کا انجام دو طرفہ شرمندگی ہے۔شیخ سعدی نے ان کا انجام یوں فرمایا شعر
کنند ایں وآن خوش ذگر بارہ دل وے اندر میاں کو رنجت و خجل
وہ دونوں مل جاویں گے یہ دو طرفہ روسیا ہ ہوگا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4822