Main Icon

باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4853

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَائِشَة قَالَتْ: قُلْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: حَسْبُكَ مِنْ صَفِيَّةَ كَذَا وَكَذَا - تَعْنِي قَصِيرَةً - فَقَالَ: لَقَدْ قُلْتِ كَلِمَةً لَوْ مُزِجَ بِهَا الْبَحْرُ لَمَزَجَتْهُ . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيّ وَأَبُوْ دَاوُدَ

وعن عائشة قالت: قلت للنبي صلى الله عليه وسلم: حسبك من صفية كذا وكذا - تعني قصيرة - فقال: لقد قلت كلمة لو مزج بها البحر لمزجته . رواه أحمد والترمذي وأبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائشہ )رضی اللہ عنھا( سے فرماتی ہیں کہ میں نے نبی صلی الله علیہ وسلم سے عرض کیا کہ آپ کو صفیہ (رضی اللہ عنھا) سے یہ ہے کہ وہ ایسی ایسی ہیں یعنی پستہ قد ۱∞؎تو فرمایا تم نے ایسی بات کہی ہے کہ اگر اس کو دریا میں ملادیا جائے تو اسے رنگین کردے ۲؎(احمد،ترمذی،ابوداؤ د)

شرح حدیث

۱∞؎اس طرح کہ جناب عائشہ نے بالشت دکھا کر فرمایا کہ صفیہ اتنی بڑی ہیں یعنی میرے بالشت کی برابر یہ عرض و معروض حضرت صفیہ بنت حیی کے پس پشت ہوئی اس لیے اسے غیبت کہا گیا۔معلوم ہوا کہ غیبت اشارہ سے بھی ہوجاتی ہے۔
۲
؎یعنی بظاہر یہ بات چھوٹی سی معلوم ہوتی ہے مگر اتنی بڑی ہے کہ اگر اس رنگت کو پوڑیا کی شکل دے دی جاوے اوراسے سمندر میں گھول دیا جاوے تو سارے سمندر کو رنگین کردے تو یہ تمہارے دل کو یقینا گدلا کردے گی تمہارے نیک اعمال کا رنگ بھی بگاڑ دے گی،اس سے توبہ کرو اور آئندہ کبھی کسی کی غیبت نہ کرو۔ اس حدیث سے دو مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ حضرات صحابہ کرام گناہوں سے معصوم نہیں،معصوم یا فرشتے ہیں یا حضرات انبیاءکرام،یہ حضرات عادل ہیں کہ گناہ پر جمتے نہیں توبہ کرلیتے ہیں۔دوسرے یہ کہ غیبت حق العبد جب ہے جب کہ اس کی خبر اس کو پہنچ جاوے جس کی غیبت کی گئی ورنہ حق اللہ ہے کہ توبہ سے معاف ہوجاتی ہے،دیکھو حضور صلی الله علیہ وسلم نے حضرت عائشہ صدیقہ کو جناب صفیہ سے معافی مانگنے کا حکم نہ دیا کیونکہ حضرت صفیہ کو اس کی خبر نہ ہوئی لہذا یہ حق الله رہی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4853