Main Icon

باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4839

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَلِيٍّ بْنِ الْحُسَيْنِ قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مِنْ حُسْنِ إِسْلَامِ الْمَرْءِ تَرْكُهٗ مَا لَا يَعْنِيهِ . رَوَاهُ مَالِكٌ وَأحمد

وعن علي بن الحسين قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من حسن إسلام المرء تركه ما لا يعنيه . رواه مالك وأحمد

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت علی ابن حسین سے ۱∞؎فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ انسان کے اسلام کی خوبیوں میں سے ایک چھوڑ دینا ہے اس کا جو اسے نفع نہ دے ۲؎(مالک،احمد)

شرح حدیث

۱∞؎علی ابن حسین ابن علی یعنی امام زین العابدین آپ کے فضائل و مناقب بارہا ہم اسی کتاب میں عرض کرچکے ہیں۔
۲
؎یعنی کامل مسلمان وہ ہے جو ایسے کلام ایسے کام ایسی حرکات و سکنات سے بچے جو اس کے لیے دین یا دنیا میں مفید نہ ہوں،وہ کام یا کلام کرے جو اسے یا دنیا میں مفید ہو یا آخرت میں۔سبحان الله! ان دو کلموں میں دونوں جہان کی بھلائی وابستہ ہے۔ایک بزرگ کسی محل پرگزرے مالک سے پوچھا کہ تو نے یہ مکان کب بنایا ہے فورًا بولے کہ میں نے یہ کلام بے فائدہ کیا اس کے کفارہ میں ایک سال روزے رکھے۔اپنے نفس کا حساب کرو تاکہ قیامت کا حساب آسان ہو۔(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4839