Main Icon

باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4837

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: لَقِيتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: مَا النَّجَاةُ؟ فَقَالَ: أَمْلِكْ عَلَيْكَ لِسَانَكَ وَلِيَسْعَكَ بَيْتُكَ وَابْكِ عَلٰى خَطِيئَتِكَ . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ

وعن عقبة بن عامر قال: لقيت رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلت: ما النجاة؟ فقال: أملك عليك لسانك وليسعك بيتك وابك على خطيئتك . رواه أحمد والترمذي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عقبہ ابن عامر سے ۱∞؎فرماتے ہیں کہ میں رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے ملا تو میں نے عرض کیا کہ نجات کا ذریعہ کیا ہے ۲؎فرمایا اپنی زبان کو قابو میں رکھو ۳؎اور تم کو تمہارا گھر کافی رہے ۴؎اور اپنی خطاؤ ں پر رو ۵؎(احمد،ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎آپ قبیلہ جہینہ سے ہیں،امیرمعاویہ کی طرف سے مصر کے حاکم رہے پھر معزول کردیئے گئے،مصر میں ہی میں آپ کی وفات ہوئی، ۵۸ھ؁∞ میں۔(اکمال)۲؎یعنی ہم دین و دنیا کی مصیبتوں سے کیسے بچیں دنیا میں آفتیں تو گردوغبار کی طرح پھیلتی ہیں ان سے بچاؤ کی تدبیر کیا ہے۔
۳
؎املكالف کے کسرہ سے بابضربکا امر ہےملكبمعنی قبضہ قابو ہے یعنی اپنی زبان کو قبضہ میں رکھو اس کی حفاظت کرو بری بات بولنے سے روکو۔
۴
؎یعنی بلا ضرورت گھر سے باہر نہ جاؤ لوگوں کے پاس بلاوجہ نہ جاؤ گھر سے نہ گھبراؤ اپنے گھر کی خلوت کو غنیمت جانو کہ اس میں صدہا آفتوں سے امان ہے۔بزرگ فرماتے ہیں کہ سکوت،لزوم بیوت اور قناعت بالقوت الی ان یموت امان کی چابی ہے یعنی خاموشی،گھر میں رہنا،رب کی عطا پر قناعت،موت تک اس پر قائم رہنا۔
۵
؎یعنی اپنے گزشتہ گناہوں پر نادم ہوکر رونا اختیار کرو دوسروں کی عیب جوئی کی بجائے اپنی عیب جوئی کرو۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4837