Main Icon

باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4843

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ سُفْيَانَ بْنِ عَبْدِ اللهِ الثَّقَفِيَّ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ مَا أَخْوَفُ مَا تَخَافُ عَلَيَّ؟ قَالَ:فَأَخَذَ بِلِسَانِ نَفْسِهٖ وَقَالَ: هٰذَا .رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَصَحَّحَهُ

وعن سفيان بن عبد الله الثقفي قال: قلت: يا رسول الله ما أخوف ما تخاف علي؟ قال:فأخذ بلسان نفسه وقال: هذا .رواه الترمذي وصححه

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت سفیان ابن عبدالله ثقفی سے ۱∞؎فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یارسول الله جن چیزوں کا آپ مجھ پر خو ف کرتے ہیں ان میں زیادہ خطرناک کیا چیز ہے ۲؎فرمایا کہ آپ نے اپنی زبان پکڑی اور فرمایا یہ۳؎ترمذی اور اسے صحیح کہا۔

شرح حدیث

۱∞؎آپ کا نام سفیان ابن عبدالله ابن ربیعہ ہے،کنیت ابو عمرو،قبیلہ بنی ثقیف سے ہیں،طائف کے رہنے والے تھے،حضرت عمر رضی الله عنہ کی خلافت میں طائف کے حاکم رہے۔
۲
؎یعنی میرے اعضاء سارے ہی خطرناک ہیں مگر ان سب میں زیادہ خطرناک کون سا عضو ہے جو مجھے بہت زیادہ نقصان پہنچاسکتا ہے۔
۳
؎حضور انور نے خود سائل کی زبان نہ پکڑی اس لیے کہ اس میں تکلف ہوتا اور یہ احتمال ہوتا کہ شاید صرف ان کی زبان ہی خطرناک ہوگی دوسروں کی نہیں اپنی زبان شریف پکڑنے میں یہ دونوں باتیں نہیں،نیز اشارہ کیا نام نہ لے دیا کہ اشارہ فرمانے میں زیادہ اہتمام ہے،چونکہ کفر و شرک اور اکثر بڑے گناہ زبان سے ہوتے ہیں،نیز زیادہ گناہ اور ہر وقت گناہ زبان سے ہوتے ہیں اس لیے اسی کو زیادہ خطرناک قرار دیا دیگر اعضاء کے گناہوں میں بھی زبان کا دخل ہوتا ہے چوری،زنا،شراب خوری،قتل وغیرہ تمام جرموں میں پہلے زبان کام کرتی ہے پھر باقی اعضاءکہ ان کاموں کے مشورے زبان سے ہی ہوتے ہیں، میدان زبان بناتی ہے پھر اس پر چلتے ہیں باقی اعضاء ،یہ ہی حال نیکیوں کا ہے کہ زیادہ نیکیاں ز بان سے ہوتی ہے اورباقی اعضاءکی نیکیوں میں بھی زبان کا حصہ ضرور ہوتا ہے دوسرے اعضاء کی نیکیاں خاص وقتوں میں ہوتی ہیں مگر زبان کی نیکیاں ہر وقت ہوتی رہتی ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4843