Main Icon

باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4818

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَنَسٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: اَلْمُسْتَبَّانِ مَا قَالَا فَعَلَى البَادِئِ مَالَمْ يَعْتَدِ الْمَظْلُومُ . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعن أنس وأبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: المستبان ما قالا فعلى البادئ مالم يعتد المظلوم . رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس (رضی اللہ عنہَ)اور ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ )سے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ گالی گلوچ کرنے والے جو کچھ کہیں اس کا وبال ابتداءکرنے والے پر ہے جب تک کہ مظلوم زیادتی نہ کرے ۱∞؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی دونوں کی برائیوں کا وبال ابتداءکرنے والے پر ہوگا جب کہ دوسرا زیادتی نہ کرجاوے صرف اگلے کو جواب دے۔خیال رہے کہ گالی کے بدلےمیں گالی نہ دینا چاہیے کہ گالی فحش ہے جس سے زبان اپنی ہی خراب ہوتی ہے۔سبّکے معنی ہیں برا کہنا نہ کہ گالی دینا ، گالی دینے والے سے بدلہ اور طرح لو اسے گالی نہ دو اگر کتا کاٹ لے تو تم اسے کاٹو مت بلکہ لکڑی سے مار دو لہذا حدیث واضح اس میں گالیاں بکنے کی اجازت نہ دی گئی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4818