Main Icon

باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4857

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا أُحِبُّ أَنِّي حَكَيْتُ أَحَدًا وَأَنَّ لِيْ كَذَا وَكَذَا . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَصَحَّحَهُ

وعن عائشة قالت: قال النبي صلى الله عليه وسلم: ما أحب أني حكيت أحدا وأن لي كذا وكذا . رواه الترمذي وصححه

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں فرمایا نبی صلی الله علیہ وسلم نے کہ میں پسند نہیں کرتا کہ کسی کی نقل کروں اگرچہ مجھے اتنا اتنا ملے ۱∞؎(ترمذی) اور اس کو صحیح فرمایا۔

شرح حدیث

۱∞؎یعنی اگر مجھے کوئی دنیا کی بڑی سے بڑی دولت نعمت دے اس کے عوض میں کہ میں کسی مسلمان کی کوئی حرکت بطورِ غیبت نقل کروں تو میں وہ دولت قبول نہ کروں گا اور اس کی نقل نہ اتاروں گا۔یہاں حضور انور نے اپنا عمل شریف بیان فرماکر تا قیامت مسلمانوں کو تعلیم دی کہ تم کو کوئی کتنی ہی دولت دے کر کسی مسلمان کی قولی یا عملی غیبت کرائے اس کی نقل اتروائے تو ہرگز قبول نہ کرو،یہاں بھی حکایت سے مراد بطور غیبت ممنوع نقل کرنا ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4857