Main Icon

باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4815

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّمَا رَجُلٍ قَالَ لِأَخِيهِ كَافِرُ فَقَدْ بَاءَ بِهَا أَحَدُهُمَا . (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن ابن عمر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: أيما رجل قال لأخيه كافر فقد باء بها أحدهما . (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ مسلمان اپنے بھائی مسلمان کو کافر کہے تو اس کے کفر کو لے کر ان دونوں میں سے ایک لوٹے گا ۱∞؎(مسلم ، بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی جو مسلمان دوسرے مسلمان کو کافر کہے اگر وہ مسلمان واقعی کوئی کفریہ کام یا کفریہ کلام کرچکا ہے تب تو یہ کفر اس پر پڑے گا لیکن اگر اس میں کوئی کفر نہ ہو تو یہ کہنے والا کافر ہوجاوے گا جب کہ کسی قطعی ایمان والے کو کافر کہے جیسے صحابہ کرام کو خصوصًا مبشرین الجنۃ کو کافر کہنے والا یقینًا کافر ہے کہ قرآن حدیث تو انہیں مؤمن کہہ ر ہے ہیں اور یہ انہیں کافر کہتا ہے تو قرآن و حدیث کا منکر ہے یا کسی عقیدہ اسلامیہ کی بنا پر کافر کہتا ہے تو بھی یہ کہنے والا کافر ہے،اس سے وہ شخص مراد نہیں جو کسی کو گالی کے طور پر کافر کہے یا کافر کے معنی ناشکرا یا چھپانے والاکرے لہذا حدیث واضح ہے حضرت خسرو فرماتے ہیں
کافر عشقم مسلمانی مرا درکار نیست ہررگ من تارگشتہ حاجت نار نیست
یہاں کافر عشق سے مراد ہےعشق کا چھپانے والا اسے دل میں رکھنے والا،رب تعالٰی فرماتاہے:"
فَمَنْ یَّکْفُرْ بِالطَّاغُوۡتِ وَیُؤْمِنۡۢ بِاللّٰهِ"جو کوئی بتوں کو انکارکرے الله پر ایمان لائے۔یہاں کفر بمعنی انکار ہے لہذا یہ حدیث اس آیت کے خلاف نہیں۔امام نووی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث بہت مشکل ہے،فقیر نے جو توجیہ کی ہےان شاءاللهاس سے اشکال نہ رہا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4815