Main Icon

باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4855

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ عَنْ مَعَاذٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ عَيَّرَ أَخَاهُ بِذَنْبٍ لَمْ يَمُتْ حَتّٰى يَعْمَلَهُ يَعْنِي مِنْ ذَنْبٍ قَدْ تَابَ مِنْهُ -. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَا حَدِيْثٌ غَرِيْبٌ وَلَيْسَ إِسْنَادُهٗ بِمُتَّصِلٍ لِأَنَّ خَالِدًا لَمْ يُدْرِكْ مَعَاذَ بْنَ جَبَلٍ

وعن خالد بن معدان عن معاذ قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من عير أخاه بذنب لم يمت حتى يعمله يعني من ذنب قد تاب منه -. رواه الترمذي وقال: هذا حديث غريب وليس إسناده بمتصل لأن خالدا لم يدرك معاذ بن جبل

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت خالد ابن معدان سے ۱∞؎وہ حضرت معاذ سے راوی فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جو اپنے بھائی کو کسی گناہ کی عار دلائے ۲؎تو وہ نہ مرے گا حتی کہ خودبھی کرے گا۳؎یعنی وہ گناہ جس سے وہ توبہ کرچکا ہے۴؎(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے اور اس کی اسناد متصل نہیں کیونکہ خالد نے معاذ ابن جبل کو نہیں پایا ۵؎

شرح حدیث

۱∞؎آپ جلیل القدرعظیم الشان تابعی ہیں،آپ کی کنیت ابو عبدالله ہے،ملک شام میں مقام حمص کے رہنے والے ہیں،قبیلہ کلاع سے ہیں،ستر۷۰ صحابہ سے ملاقات کی، ۱۰۴ ھ؁∞ ایک سوچار ہجری میں مقام طرطوس میں آپ کی وفات ہوئی وہاں ہی قبر شریف ہے۔
۲
؎گناہ سے وہ گناہ مراد ہے جس سے وہ توبہ کرچکا ہے یا وہ پرانا گناہ جسے لوگ بھول چکے یا خفیہ گناہ جس پر لوگ مطلع نہ ہوں اور عار دلانا توبہ کرانے کے لیے نہ ہوں محض غصہ اور جوش غضب سے ہو یہ قیود خیال میں رہیں۔
۳
؎یعنی اپنی موت سے پہلے یہ گناہ خود کرے گا اور اس میں بدنام ہوگا مظلوم کا بدلہ ظالم سے خود رب تعالی لیتا ہے۔
۴
؎یہ تفسیر حضرت امام احمد ابن حنبل کی ہے کہ یہاں گناہ سے مراد وہ گناہ ہے جس سے گنہگار توبہ کرچکا ہے ایسے گناہ کا ذکر بھی نہیں چاہیے جس گناہ میں بندہ گرفتار ہے،اس سے عار دلانا تاکہ توبہ کرے یہ تو تبلیغ ہے اس پر ثواب ہے۔
۵
؎یعنی خالد ابن معدان نے معاذ ابن جبل کا زمانہ نہ پایا کیونکہ حضرت معاذ کی وفات ۱۸؁∞ اٹھارہ میں ہوئی اور خالد کی پیدائش ۱۸ھ؁∞ کے بعد ہوئی۔خیال رہے کہ اتصال کے لیے راوی کا اپنے شیخ سے ملاقات کرنا ضروری نہیں صرف ہم زمانہ ہونا کافی ہے،تمام محدثین کا اس پر اتفاق ہے ہاں امام بخاری کے ہاں ملاقات ضروری ہے۔(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4855