Main Icon

باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4833

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ بِلَالِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ الرَّجُلَ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ مِنَ الْخَيْرِ مَا يَعْلَمُ مَبْلَغَهَا يَكْتُبُ اللّٰهُ لَهٗ بِهَا رِضْوَانَهُ اِلٰى يَوْمٍ يَلْقَاهُ. وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ مِنَ الشَّرِّ مَا يَعْلَمُ مَبْلَغَهَا يَكْتُبُ اللّٰهُ بِهَا عَلَيْهِ سَخَطَهُ اِلٰى يَوْمٍ يَلْقَاهُ . رَوَاهُ فِي “شَرْحِ السُّنَّةِ”. وَرَوٰى مَالِكٌ وَالتِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَه نَحْوَهٗ

وعن بلال بن الحارث قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إن الرجل ليتكلم بالكلمة من الخير ما يعلم مبلغها يكتب الله له بها رضوانه الى يوم يلقاه. وإن الرجل ليتكلم بالكلمة من الشر ما يعلم مبلغها يكتب الله بها عليه سخطه الى يوم يلقاه . رواه في “شرح السنة”. وروى مالك والترمذي وابن ماجه نحوه

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت بلال ابن حارث سے ۱∞؎فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ کوئی شخص اچھی بات بول دیتا ہے اس کی انتہا نہیں جانتا۲؎اس کی وجہ سے اس کے لیے اللہ کی رضا اس دن تک کےلیے لکھی جاتی ہے ۳؎جب وہ اس سے ملے گا اور ایک آدمی بری بات بول دیتا ہے جس کی انتہا نہیں جانتا الله اس کی وجہ سے اپنی ناراضی اس دن تک لکھ دیتا ہے جب وہ اس سے ملے گا ۴؎(شرح سنہ)اور مالک،ترمذی،ابن ماجہ نے اس کی مثل روایت کی۔

شرح حدیث

۱∞؎یہ وہ بلال نہیں جو حضور انورکے مؤذن تھے وہ تو بلال ابن ابی رباح حبشی ہیں یہ بلال ابن حارث مزنی ہیں، ان کی کنیت ابو عبد الرحمن ہے، ۵؁∞ پانچ ہجری میں وفد مزینہ میں حضور کی خدمت میں آئے،حضور انور نے آپ کو فرع کے علاقہ کا حاکم مقرر فرمایا،فرع مدینہ منورہ سے پانچ دن کے راستہ پر ہے،فتح مکہ کے دن مزینہ کا جھنڈا ان کے ہاتھ میں تھا،اسی۸۰ سال آپ کی عمر ہوئی، ۶۰؁∞ ساٹھ ہجری میں وفات پائی۔
۲
؎یعنی اسے خبر نہیں ہوتی کہ یہ بات جو میں بول رہا ہوں الله کے نزدیک کیسی عظیم الشان ہے یوں ہی بول دیتا ہے۔
۳
؎یہاںالیانتہاء کا نہیں اور حدیث کا مطلب یہ نہیں کہ قیامت تک تو رب اس سے راضی رہے گا بعد میں ناراض ہوجاوے گا بلکہ مطلب یہ ہے کہ اس رضا کا ظہور دنیا میں ہی نہیں بلکہ روز قیامت تک رہے گا جیسے رب نے شیطان سے فرمایا"اِنَّ عَلَیۡكَ لَعْنَتِیۡۤ اِلٰی یَوْمِ الدِّیۡنِ"۔غرضکہ رحمت کے آثار کا ظہور ابدالاباد تک ہے اور عطا رب غفور بعد قیامت ہوگی۔ (اشعہ)غرضکہ اس فرمان سے مراد ابدالاباد ہے جیسے کہا جاتا ہے میں تجھ سے قیامت تک نہ بولوں گا یا تجھ سے قیامت تک خوش رہوں گا یعنی کبھی نہ بولوں گا یا ہمیشہ خوش رہوں گا۔
۴
؎یعنی کوئی بات ایسی بری بول دیتا ہے جس سے رب تعالٰی ہمیشہ کے لیے ناراض ہوجاتا ہے لہذا انسان کو چاہیے کہ بہت سوچ سمجھ کر بات کیا کرے۔حضرت علقمہ فرمایا کرتے تھے کہ مجھے بہت سی باتوں سے بلال ابن حارث کی حدیث روک دیتی ہے۔ (مرقات)یعنی میں کچھ بولنا چاہتا ہوں کہ یہ حدیث سامنے آجاتی ہے اور میں خاموش ہوجاتا ہوں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4833