Main Icon

باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4842

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: تُوُفِّيَ رَجُلٌ مِنَ الصَّحَابَةِ. فَقَالَ رَجُلٌ: أَبْشِرْ بِالْجَنَّةِ. فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَوَ لَا تَدْرِي فَلَعَلَّهٗ تَكَلَّمَ فِيمَا لَا يَعْنِيْهِ أَوْ بَخِلَ بِمَا لَا يَنْقُصُهٗ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

وعن أنس قال: توفي رجل من الصحابة. فقال رجل: أبشر بالجنة. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: أو لا تدري فلعله تكلم فيما لا يعنيه أو بخل بما لا ينقصه . رواه الترمذي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں کہ ایک صحابی نے وفات پائی تو کسی نے کہا کہ مبارک ہے جنت کی ۱∞؎تو رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم نہیں جانتے کہ شاید غیر مفید خبر میں گفتگو کی یا نہ گھٹنے والی چیز میں بخل کیا ہو ۲؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی میری طرف سے جنت کی مبارک باد قبول کر کہ تو مؤمن متقی صحابی ہو کر دنیا سے گیا اس سے بڑھ کر کیا درجہ ہوسکتا ہے،یہ خطاب اس میت سے ہے۔
۲
؎مطلب یہ ہے کہ فوری جنتی ہونے کا فیصلہ کسی کے لیے نہیں کیا جاسکتا۔ممکن ہے کہ اس شخص نے بے کار بات کرلی ہو یا مال یا علم میں بخل کیا ہو اس کے حساب میں گرفتار ہو جنت کا داخلہ اس کے حساب سے فراغت کے بعد میسر ہو۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4842