Main Icon

باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4862

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ أَنَّهٗ قِيلَ لِرَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيَكُونُ الْمُؤْمِنُ جَبَانًا؟قَالَ: نَعَمْ . فَقِيْلَ لَہٗ: أَيَكُونُ الْمُؤْمِنُ بَخِيلًا؟ قَالَ: نَعَمْ . فَقِيلَ لَہٗ: أَيَكُونُ الْمُؤْمِنُ كَذَّابًا؟ قَالَ: لَا .رَوَاهُ مَالِكٌ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الإِيمَانِ مُرْسَلًا

وعن صفوان بن سليم أنه قيل لرسول الله صلى الله عليه وسلم: أيكون المؤمن جبانا؟قال: نعم . فقيل لہ: أيكون المؤمن بخيلا؟ قال: نعم . فقيل لہ: أيكون المؤمن كذابا؟ قال: لا .رواه مالك والبيهقي في شعب الإيمان مرسلا

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت صفوان ابن سلیم سے ۱∞؎کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے عرض کیا گیا کہ کیا مؤمن بزدل ہو سکتا ہے فرمایا ہاں پھر عرض کیا گیا کیامؤمن کنجوس ہوسکتا ہے فرما ہاں ۲؎پھر عرض کیا گیا کیا مؤمن جھوٹا ہوسکتا ہے فرمایا نہیں ۳؎(مالک، بیہقی شعب الایمان ارسالًا)۴؎

شرح حدیث

۱∞؎آپ تابعین میں سے ہیں،نہایت متقی پرہیزگار تھے،چالیس سال زمین سے پیٹھ نہ لگائی بیٹھے بیٹھے جان نکلی سجدے کرتے کرتے پیشانی میں غار ہوگیا، ۱۰۲؁∞ ایک سو دو ہجری میں وفات ہوئی۔(اشعہ و مرقات)لہذا یہ حدیث مرسل ہے کہ صحابی کا ذکر اس میں نہیں ہے۔
۲
؎یعنی مسلمان میں بزدلی یا کنجوسی فطری طور پر ہوسکتی ہے کہ یہ عیوب ایمان کے خلاف نہیں لہذا مؤمن میں ہوسکتی ہیں۔
۳
؎کذابفرماکر اس طرف اشارہ ہے کہ مؤمن گاہے بہ گاہے جھوٹ بول لے تو ہوسکتا ہے مگر بڑا جھوٹا ہمیشہ کا جھوٹا ہونا جھوٹ کا عادی ہونا مؤمن ہونے کی شان کے خلاف ہے،یہاں بھی وہ ہی مراد جو ابھی پہلی حدیث میں عرض کیا گیا یا مؤمن سے مراد کامل الایمان لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ بہت مسلمان جھوٹے ہوتے ہیں۔
۴
؎ارسال کی وجہ ابھی عرض کی گئی کہ صفوان ابن سلیم تابعی ہیں صحابی نہیں اور تابعی کا کسی حدیث کو حضور سے روایت کرنا ارسال ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4862