Main Icon

باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4866

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي ذرٍّ قَالَ: دَخَلْتُ عَلٰى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُوْلِهٖ إِلٰى أَنْ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ أَوْصِنِي قَالَ: أُوصِيْكَ بِتَقْوَى اللّٰهِ فَإِنَّهٗ أَزْيَنُ لِأَمْرِكَ كُلِّهٖ قُلْتُ: زِدْنِي قَالَ: عَلَيْكَ بِتِلَاوَةِ الْقُرْآنِ وَذِكْرِ اللّٰهِ عَزَّ وَجَلَّ فَإِنَّهٗ ذِكْرٌ لَكَ فِي السَّمَاءِ وَنُوْرٌ لَكَ فِي الْأَرْضِ . قُلْتُ: زِدْنِي. قَالَ: عَلَيْكَ بِطُوَالِ الصَّمْتِ فَإِنَّهٗ مَطْرَدَةٌ لِلشَّيْطَانِ وَعَوْنٌ لَّكَ عَلٰى أَمْرِ دِينِكَ قُلْتُ: زِدْنِي. قَالَ: إِيَّاكَ وَ کَثْرَۃَ الضِّحْكَ فَإِنَّهٗ يُمِيْتُ الْقَلْبَ وَيَذْهَبُ بِنُورِ الْوَجْهِ قُلْتُ: زِدْنِي. قَالَ: قُلِ الْحَقَّ وَإِنْ كَانَ مُرًّا ". قُلْتُ: زِدْنِي. قَالَ: لَا تَخَفْ فِي اللّٰهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ . قُلْتُ: زِدْنِي. لِيَحْجُزْكَ عَنِ النَّاسِ مَا تَعْلَمُ مِنْ نَفْسِكَ "

وعن أبي ذر قال: دخلت على رسول الله صلى الله عليه وسلم فذكر الحديث بطوله إلى أن قال: قلت: يا رسول الله أوصني قال: أوصيك بتقوى الله فإنه أزين لأمرك كله قلت: زدني قال: عليك بتلاوة القرآن وذكر الله عز وجل فإنه ذكر لك في السماء ونور لك في الأرض . قلت: زدني. قال: عليك بطوال الصمت فإنه مطردة للشيطان وعون لك على أمر دينك قلت: زدني. قال: إياك و کثرۃ الضحك فإنه يميت القلب ويذهب بنور الوجه قلت: زدني. قال: قل الحق وإن كان مرا ". قلت: زدني. قال: لا تخف في الله لومة لائم . قلت: زدني. ليحجزك عن الناس ما تعلم من نفسك "

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوذر سے فرماتے ہیں کہ میں رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا دراز حدیث بیان کی ۱ ∞؎یہاں تک کہ فرمایا میں نے عرض کیا یارسول الله مجھے وصیت کیجئے ۲؎فرمایا میں تم کو الله سے ڈرنے کی وصیت کرتا ہوں کہ یہ تمہارے تمام کاموں کی زینت ہے۳؎میں نے عرض کیا کہ کچھ زیادہ کیجئے فرمایا قرآن کی تلاوت اور الله کا ذکر اختیار کرو ۴؎کہ یہ تمہارے چرچے کا باعث ہے آسمان میں اور تمہارے لیے نور ہے زمین میں ۵؎میں نے عرض کیا کچھ زیادہ فرمایئے فرمایا تم دراز خاموشی اختیار کرو ۶؎کہ یہ شیطان کو بھگانے والا ہے اور تمہارے دینی کام پر تمہارا مدد گار ہے ۷؎میں نے عرض کیا کہ مجھے زیادہ دیجئے فرمایا زیادہ ہنسنے سے بچو کہ یہ دل کو مردہ کر دیتا ہے اور چہرے کا نور زائل کردیتا ہے ۸؎میں نے عرض کیا زیادہ کیجئے فرمایا حق بات کہو اگرچہ کڑوی ہو ۹؎میں نے عرض کیا اور زیادہ دیجئے فرمایا الله کی راہ میں ملامت والے کی ملامت سے نہ ڈرو ۱۰؎میں نے عرض کیا زیادہ کیجئے فرمایا کہ تم کو لوگوں سے وہ بات منع کرے جو تم اپنے میں جانتے ہو ۱۱∞؎

شرح حدیث

۱∞؎یعنی حضور صلی الله علیہ وسلم سے عرض و معروض بہت دراز ہوئی جس کا ذکر دوسری جگہ ہے یہاں نہیں۔
۲
؎مجھے کوئی خاص تاکیدی حکم دیجئے اعلیٰ نصیحت فرمایئے۔اہلِ عرب بہت تاکیدی حکم یا اہم نصیحت کو وصیت کہتے ہیں کیونکہ انکے نزدیک وصیت ضرور پوری کی جاتی تھی،رب فرماتاہے:"یُوۡصِیۡکُمُ اللّٰهُ
۳
؎یعنی دین و دنیا کی تمام اچھی چیزوں کی زینت خوف خدا ہے۔خوفِ خدا کے ساتھ عقائد عبادات معاملات جو بھی کیے جاویں کامل ہوں گے،قران کریم میں ہے"وَلَقَدْ وَصَّیۡنَا الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الْکِتٰبَ مِنۡ قَبْلِکُمْ وَ اِیَّاکُمْ اَنِ اتَّقُوا اللّٰہَ"تقویٰ دل کا غسل ہے،نیک عقائد دل کا لباس،نیک اعمال دل کا زیور سب چیزیں تقویٰ کے بعد ہیں۔
۴
؎کیونکہ تلاوت قرآن اور ذکر الله تقویٰ حاصل ہونے کا ذریعہ ہے اس سے دل نرم پڑتا ہے نرمی دل الله کی بڑی نعمت ہے،ہر چیز نرم ہو کر ہی کچھ بنتی ہے لوہا نرم ہوکر اوزار بنتا ہے،زمین میں نرمی کے بعد دانہ و تخم بوئے جاتے ہیں،آٹا پانی سے نرم ہوکر اعلی درجہ کی غذائیں بنتا ہے،دل نرم ہوکر ولی الله بن جاتا ہے۔
۵
؎اس فرمان عالی میں اس آیت کی طرف اشارہ ہے"فَاذْکُرُوۡنِیۡۤ اَذْکُرْکُمْ"تم مجھے یاد کرو میں تمہیں یاد کروں گا،الله کے ذاکر کا فرشتے چرچا کرتے ہیں،اس سے چہرے پر نور دل میں سرور ہوتا ہے،لوگوں میں عزت نصیب ہوتی ہے آزمائش کرلو۔شعر
گر تو خواہی زیستین با آبرو ذکر اوکن ذکر اوکن ذکر او
ہر گدارا ذکر او سلطان کند ذکر مرزیور ایمان بود
ہر کہ دیوانہ بود در ذکر حق زیر پائش عرش و کرسی نہ فلک
۶
؎یعنی دنیاوی کلام سے خاموشی اختیارکرو ذکر الله سے خاموشی مراد نہیں۔
۷
؎کیونکہ قریبًا اسّی فی صدی گناہ زبان سے ہوتے ہیں،زبان بند رکھو گناہ کم کرو گے تم پر شیطان کا داؤ کم چلے گا،خاموشی میں ذکروفکر کا زیادہ موقعہ ملے گا۔
۸
؎کیونکہ زیادہ ہنسی دل غافل کر دیتی ہے دل کی غفلت اس کی موت ہے قلب بیدار،زبان ذاکر،جسم صابر الله تعالٰی کی نعمتیں ہیں۔
۹
؎یعنی اگر حق بات لوگوں کو بری معلوم ہو تم پر اس کی وجہ سے کچھ تکلیف بھی آجائے مگر کہو ہمیشہ حق بات،اس حق بات سے مراد لوگوں کو اچھی نصیحتیں کرنا ہے۔
۱۰
؎لوگوں کے ڈر سے اچھے کلام اچھے کام نہ چھوڑ دو دین پر سختی سے قائم رہو لوگ خواہ زندہ باد کہیں یا مردہ باد۔
۱۱∞؎
یعنی لوگوں کو ان عیوب پر ملامت نہ کرو جو تم میں خود موجود ہیں پہلے اپنی اصلاح کرو پھر دوسروں کی۔ خیال رہے کہ اچھی باتیں بتانا اور چیز ہے اور عیب جوئی کچھ اور اپنے کو سب سے ناقص جانو۔شعر
غافل ازایں خلق از خود اے پسر لاجرم گویند عیب یک دگر

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4866