- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 6
- اچھی باتوں کا بیان
- حدیث نمبر 4866
باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4866
اچھی باتوں کا بیان - جلد 6
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
- حدیث
-
- 4812
- 4813
- 4814
- 4815
- 4816
- 4817
- 4818
- 4819
- 4820
- 4821
- 4822
- 4823
- 4824
- 4825
- 4826
- 4827
- 4828
- 4829
- 4830
- 4831
- 4832
- 4833
- 4834
- 4835
- 4836
- 4837
- 4838
- 4839
- 4840
- 4841
- 4842
- 4843
- 4844
- 4845
- 4846
- 4847
- 4848
- 4849
- 4850
- 4851
- 4852
- 4853
- 4854
- 4855
- 4856
- 4857
- 4858
- 4859
- 4860
- 4861
- 4862
- 4863
- 4864
- 4865
- 4866
- 4867
- 4868
- 4869
- 4870
- 4871
- 4872
- 4873
- 4874
- 4875
- 4876
- 4877
- اگلا
حدیث مبارکہ
وَعَنْ أَبِي ذرٍّ قَالَ: دَخَلْتُ عَلٰى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُوْلِهٖ إِلٰى أَنْ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ أَوْصِنِي قَالَ: أُوصِيْكَ بِتَقْوَى اللّٰهِ فَإِنَّهٗ أَزْيَنُ لِأَمْرِكَ كُلِّهٖ قُلْتُ: زِدْنِي قَالَ: عَلَيْكَ بِتِلَاوَةِ الْقُرْآنِ وَذِكْرِ اللّٰهِ عَزَّ وَجَلَّ فَإِنَّهٗ ذِكْرٌ لَكَ فِي السَّمَاءِ وَنُوْرٌ لَكَ فِي الْأَرْضِ . قُلْتُ: زِدْنِي. قَالَ: عَلَيْكَ بِطُوَالِ الصَّمْتِ فَإِنَّهٗ مَطْرَدَةٌ لِلشَّيْطَانِ وَعَوْنٌ لَّكَ عَلٰى أَمْرِ دِينِكَ قُلْتُ: زِدْنِي. قَالَ: إِيَّاكَ وَ کَثْرَۃَ الضِّحْكَ فَإِنَّهٗ يُمِيْتُ الْقَلْبَ وَيَذْهَبُ بِنُورِ الْوَجْهِ قُلْتُ: زِدْنِي. قَالَ: قُلِ الْحَقَّ وَإِنْ كَانَ مُرًّا ". قُلْتُ: زِدْنِي. قَالَ: لَا تَخَفْ فِي اللّٰهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ . قُلْتُ: زِدْنِي. لِيَحْجُزْكَ عَنِ النَّاسِ مَا تَعْلَمُ مِنْ نَفْسِكَ "
وعن أبي ذر قال: دخلت على رسول الله صلى الله عليه وسلم فذكر الحديث بطوله إلى أن قال: قلت: يا رسول الله أوصني قال: أوصيك بتقوى الله فإنه أزين لأمرك كله قلت: زدني قال: عليك بتلاوة القرآن وذكر الله عز وجل فإنه ذكر لك في السماء ونور لك في الأرض . قلت: زدني. قال: عليك بطوال الصمت فإنه مطردة للشيطان وعون لك على أمر دينك قلت: زدني. قال: إياك و کثرۃ الضحك فإنه يميت القلب ويذهب بنور الوجه قلت: زدني. قال: قل الحق وإن كان مرا ". قلت: زدني. قال: لا تخف في الله لومة لائم . قلت: زدني. ليحجزك عن الناس ما تعلم من نفسك "
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت ابوذر سے فرماتے ہیں کہ میں رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا دراز حدیث بیان کی ۱ ∞؎یہاں تک کہ فرمایا میں نے عرض کیا یارسول الله مجھے وصیت کیجئے ۲؎فرمایا میں تم کو الله سے ڈرنے کی وصیت کرتا ہوں کہ یہ تمہارے تمام کاموں کی زینت ہے۳؎میں نے عرض کیا کہ کچھ زیادہ کیجئے فرمایا قرآن کی تلاوت اور الله کا ذکر اختیار کرو ۴؎کہ یہ تمہارے چرچے کا باعث ہے آسمان میں اور تمہارے لیے نور ہے زمین میں ۵؎میں نے عرض کیا کچھ زیادہ فرمایئے فرمایا تم دراز خاموشی اختیار کرو ۶؎کہ یہ شیطان کو بھگانے والا ہے اور تمہارے دینی کام پر تمہارا مدد گار ہے ۷؎میں نے عرض کیا کہ مجھے زیادہ دیجئے فرمایا زیادہ ہنسنے سے بچو کہ یہ دل کو مردہ کر دیتا ہے اور چہرے کا نور زائل کردیتا ہے ۸؎میں نے عرض کیا زیادہ کیجئے فرمایا حق بات کہو اگرچہ کڑوی ہو ۹؎میں نے عرض کیا اور زیادہ دیجئے فرمایا الله کی راہ میں ملامت والے کی ملامت سے نہ ڈرو ۱۰؎میں نے عرض کیا زیادہ کیجئے فرمایا کہ تم کو لوگوں سے وہ بات منع کرے جو تم اپنے میں جانتے ہو ۱۱∞؎
شرح حدیث
۱∞؎یعنی حضور صلی الله علیہ وسلم سے عرض و معروض بہت دراز ہوئی جس کا ذکر دوسری جگہ ہے یہاں نہیں۔
۲؎مجھے کوئی خاص تاکیدی حکم دیجئے اعلیٰ نصیحت فرمایئے۔اہلِ عرب بہت تاکیدی حکم یا اہم نصیحت کو وصیت کہتے ہیں کیونکہ انکے نزدیک وصیت ضرور پوری کی جاتی تھی،رب فرماتاہے:"یُوۡصِیۡکُمُ اللّٰهُ"۔
۳؎یعنی دین و دنیا کی تمام اچھی چیزوں کی زینت خوف خدا ہے۔خوفِ خدا کے ساتھ عقائد عبادات معاملات جو بھی کیے جاویں کامل ہوں گے،قران کریم میں ہے"وَلَقَدْ وَصَّیۡنَا الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الْکِتٰبَ مِنۡ قَبْلِکُمْ وَ اِیَّاکُمْ اَنِ اتَّقُوا اللّٰہَ"تقویٰ دل کا غسل ہے،نیک عقائد دل کا لباس،نیک اعمال دل کا زیور سب چیزیں تقویٰ کے بعد ہیں۔
۴؎کیونکہ تلاوت قرآن اور ذکر الله تقویٰ حاصل ہونے کا ذریعہ ہے اس سے دل نرم پڑتا ہے نرمی دل الله کی بڑی نعمت ہے،ہر چیز نرم ہو کر ہی کچھ بنتی ہے لوہا نرم ہوکر اوزار بنتا ہے،زمین میں نرمی کے بعد دانہ و تخم بوئے جاتے ہیں،آٹا پانی سے نرم ہوکر اعلی درجہ کی غذائیں بنتا ہے،دل نرم ہوکر ولی الله بن جاتا ہے۔
۵؎اس فرمان عالی میں اس آیت کی طرف اشارہ ہے"فَاذْکُرُوۡنِیۡۤ اَذْکُرْکُمْ"تم مجھے یاد کرو میں تمہیں یاد کروں گا،الله کے ذاکر کا فرشتے چرچا کرتے ہیں،اس سے چہرے پر نور دل میں سرور ہوتا ہے،لوگوں میں عزت نصیب ہوتی ہے آزمائش کرلو۔شعر
گر تو خواہی زیستین با آبرو ذکر اوکن ذکر اوکن ذکر او
ہر گدارا ذکر او سلطان کند ذکر مرزیور ایمان بود
ہر کہ دیوانہ بود در ذکر حق زیر پائش عرش و کرسی نہ فلک
۶؎یعنی دنیاوی کلام سے خاموشی اختیارکرو ذکر الله سے خاموشی مراد نہیں۔
۷؎کیونکہ قریبًا اسّی فی صدی گناہ زبان سے ہوتے ہیں،زبان بند رکھو گناہ کم کرو گے تم پر شیطان کا داؤ کم چلے گا،خاموشی میں ذکروفکر کا زیادہ موقعہ ملے گا۔
۸؎کیونکہ زیادہ ہنسی دل غافل کر دیتی ہے دل کی غفلت اس کی موت ہے قلب بیدار،زبان ذاکر،جسم صابر الله تعالٰی کی نعمتیں ہیں۔
۹؎یعنی اگر حق بات لوگوں کو بری معلوم ہو تم پر اس کی وجہ سے کچھ تکلیف بھی آجائے مگر کہو ہمیشہ حق بات،اس حق بات سے مراد لوگوں کو اچھی نصیحتیں کرنا ہے۔
۱۰؎لوگوں کے ڈر سے اچھے کلام اچھے کام نہ چھوڑ دو دین پر سختی سے قائم رہو لوگ خواہ زندہ باد کہیں یا مردہ باد۔
۱۱∞؎یعنی لوگوں کو ان عیوب پر ملامت نہ کرو جو تم میں خود موجود ہیں پہلے اپنی اصلاح کرو پھر دوسروں کی۔ خیال رہے کہ اچھی باتیں بتانا اور چیز ہے اور عیب جوئی کچھ اور اپنے کو سب سے ناقص جانو۔شعر
غافل ازایں خلق از خود اے پسر لاجرم گویند عیب یک دگر
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4866