Main Icon

باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4826

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنِ الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا رَأَيْتُمُ الْمَدَّاحِيْنَ فَاحْثُوا فِي وُجُوهِهِمُ التُّرَابَ رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعن المقداد بن الأسود قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إذا رأيتم المداحين فاحثوا في وجوههم التراب رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت مقداد ابن اسود سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جب تم منہ پر تعریف کرنے والوں کو دیکھو ۱∞؎تو ان کے منہ میں مٹی ڈال دو ۲؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎یہاں مداحین سے مراد وہ جھولی چک ہیں جو خوشامد کے لیے لوگوں کے منہ پر تعریفیں کرتے ہیں بلکہ اس سے اپنے پیٹ پالتے ہیں،جھوٹی تعریفیں کرکے سامنے والے کو خوش کرتے ہیں جوکسی نیک شخص کی سچی تعریف کرے جس سے اس کو اور زیادہ نیکی کی رغبت ہو وہ اس میں داخل نہیں اس لیے مداحین صیغہ مبالغہ ارشاد ہوا یعنی تعریفیں کرنے کا عادی اس کا پیشہ ور۔
۲
؎بعض شارحین نے حدیث کو بالکل ظاہری معنی پر رکھا کہ واقعی ان پر مٹی ڈال دو تاکہ آئندہ وہ اس کام کی جرأت نہ کریں دو چار جگہ منہ پر خاک پڑ جانے سے اس عمل سے توبہ کرلیں۔بعض نے فرمایا کہ اس کامعنی یہ ہے کہ اس پر خاک ڈالو ادھر توبہ نہ کرو یہ نہ سمجھو کہ واقعی تم بڑے اچھے آدمی ہو یا یہ مطلب ہے کہ اسے کچھ دے دو تھوڑا مال بھی گویا خاک ہے تاکہ وہ تمہاری ہجو نہ کرے کہ ایسے لوگ کچھ نہ ملنے پر گالیاں دیتے ہیں یا یہ مطلب ہے کہ انہیں بہت تھوڑا مال دو جو خاک برابر ہو زیادہ مال نہ دو اوربھی بہت معنی کیے گئے ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4826