Main Icon

باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4871

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ غَنْمٍ وَأَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: خِيَارُ عِبَادِ اللّٰهِ الَّذِينَ إِذَا رُؤُوا ذُكِرَ اللّٰهُ. وَشِرَارُ عِبَادِ اللّٰهِ الْمَشَّاؤُونَ بِالنَّمِيْمَةِ وَالْمُفَرِّقُونَ بَيْنَ الْأَحِبَّةِ الْبَاغُونَ الْبُرَآءَ الْعَنَتَ . رَوَاهُمَا أَحْمَدُ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الإِيمَانِ

وعن عبد الرحمن بن غنم وأسماء بنت يزيد أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: خيار عباد الله الذين إذا رؤوا ذكر الله. وشرار عباد الله المشاؤون بالنميمة والمفرقون بين الأحبة الباغون البرآء العنت . رواهما أحمد والبيهقي في شعب الإيمان

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبدالرحمان ابن غنم اور اسماء بنت یزید سے ۱ ∞ ؎کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ الله کے بہترین بندے وہ ہیں کہ جب دیکھے جائیں تو الله یاد آجائے ۲؎اور الله کے بدترین بندے وہ ہیں جو چغلی سے چلیں،دوستوں کے درمیان جدائی ڈالنے والے۳؎پاک لوگوں میں عیب ڈھونڈنے والے۴؎(احمد،بیہقی شعب الایمان)

شرح حدیث

۱∞؎عبدالرحمن غنم اشعری شامی ہیں،جلیل القدر تابعی ہیں،آپ نے حضور انور کا زمانہ پایا مگر زیارت نہ کرسکے، حضرت معاذ ابن جبل کے ساتھ رہے،اسماء بنت یزید ابن سکن صحابیہ ہیں اسی لیے شارحین فرماتے ہیں کہ بہتر یہ تھا کہ حضرت اسماء کا نام شریف پہلے ذکر کیا جاتا۔
۲
؎یعنی ان کے چہروں پر انوار و آثار عبادت ایسے ہوں کہ انہیں دیکھتے ہی رب یاد آجاوے ان کے چہرے آئینہ خدا نما ہوں۔ حضور فرماتے ہیں کہ علی کا چہرہ دیکھنا عبادت ہے آپ کو جو دیکھتا تھا کہتا تھالا الہ الا اللهکیسا کریم بہادر حلیم جوان ہے۔ (مرقات)بعض لوگوں کے پاس بیٹھنے سے قلب جاری ہوجاتا ہے،حضور داتا صاحب کے مزار مقدس پر پہنچ کر دل کی دنیا بدل جاتی ہے،مصری عورتوں نے جمال یوسفی دیکھتے ہی کہا تھاحاشا لله، یہ ہے الله کی یاد آجانا۔یہاں حضرت شیخ عبدالحق نے فرمایا کہ میں ایک بار مکہ معظمہ کے بازار میں سر نیچا کیے جارہا تھاکہ اچانک ایک شخص پر نظر پڑی میرے منہ سے فورًالا الہ الا الله وحدہ لا شریك لہ لہ الملك ولہ الحمد وھو علی کل شئی قدیر۔(اشعہ)۳؎معلوم ہوا کہ فسادونفاق کے لیے چغلی کھانا ممنوع ہے،صلح کرانے کے لیے ایک دوسرے کو اچھی باتیں پہنچانا عبادت ہے۔
۴
؎باغونجمعباغیکی جس کا مادہبغیہے بمعنی چاہنا ڈھونڈھنا۔براءجمع ہےبریکی بمعنی دور یعنی جو عیب سے دور ہوں ان میں عیب جوئی کرنے والے۔اپنے عیب ڈھونڈھنا عبادت ہے دوسروں کے عیب ڈھونڈھنا برا ہے۔خیال رہے کہ الله تعالٰی کے مقبول بندوں میں عیب جوئی کفر ہے،بعض بدنصیبوں کو نبیوں ولیوں میں عیب جوئی کی عادت ہوتی ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4871