Main Icon

باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4836

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسلم: مَنْ صَمَتَ نَجَا .رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالدَّارِمِيُّ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي " شُعَبِ الإِيمَانِ

وعن عبد الله بن عمرو قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من صمت نجا .رواه أحمد والترمذي والدارمي والبيهقي في " شعب الإيمان

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبدالله ابن عمرو سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے جو خاموش رہا نجات پاگیا ۱∞؎(احمد،ترمذی،دارمی،بیہقی شعب الایمان)

شرح حدیث

۱∞؎اس فرمان عالی کے دو مطلب ہوسکتے ہیں:ایک یہ کہ جو میری بات سے خاموش رہا وہ دنیا و دین کی آفات سے نجات پا گیا۔دوسرے یہ کہ جس نے خاموشی اختیار کی وہ دونوں جہاں کی بلاؤ ں سے محفوظ رہا۔امام غزالی فرماتے ہیں کہ کلام چارقسم کے ہیں: خالص مضر،خالص مفید،مضر بھی مفید بھی،نہ مضر نہ مفید۔خالص مضر سے ہمیشہ پرہیز ضروری ہے،خالص مفید کلام ضرور کرے،جو کلام مضر بھی ہو مفید بھی ا س کے بولنے میں احتیاط کرے۔بہتر ہے کہ نہ بولے اور چوتھی قسم کے کلام میں وقت ضائع کرنا ہے ان کلاموں میں امتیاز کرنا مشکل ہے لہذا خاموشی بہتر ہے۔(اشعہ)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4836