Main Icon

باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4835

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ الْعَبْدَ لَيَقُولُ الْكَلِمَةَ لَا يَقُولُهَا إِلَّا لِيُضْحِكَ بِهٖ النَّاسَ يَهْوِي بِهَا أَبْعَدَ مِمَّا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ وَإِنَّهٗ لَيَزِلُّ عَنْ لِسَانِهٖ أَشَدَّ مِمَّا يَزِلُّ عَنْ قَدَمِهٖ . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الإِيمَانِ

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إن العبد ليقول الكلمة لا يقولها إلا ليضحك به الناس يهوي بها أبعد مما بين السماء والأرض وإنه ليزل عن لسانه أشد مما يزل عن قدمه . رواه البيهقي في شعب الإيمان

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ( رضی اللہ عنہ) سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ بندہ کوئی بات کرتا ہے نہیں کہتا مگر اس لیے کہ اس سے لوگوں کو ہنسائے اس کی وجہ سے وہ آسمان و زمین کے فاصلہ سے زیادہ نیچا گر جاتا ہے ۱∞؎وہ اپنی زبان سے پھسلتا ہے اس سے سخت پھسلنی جو اپنے قدم سے پھسلتا ہے ۲؎(بیہقی شعب الایمان)

شرح حدیث

۱∞؎اس فرمان عالی سے آج کل کے ڈوم مراثی مسخرے،بھانڈ بھنڈیلے عبرت پکڑیں جو لوگوں کو ہنسا کر گزارہ کرتے ہیں جن کی کمائی صرف لوگوں کی ہنسائی ہے،نیز اس سے وہ واعظین بھی عبرت پکڑیں جو منبر رسول پر وعظ کرتے ہیں صرف ہنسانے کے لیے ان کے وعظ کی کامیابی لوگوں کے قہقہہ سے ہوتی ہے۔پناہ بخدا ان کے وعظ میں پتہ نہیں چلتا کہ دین کا وعظ ہورہا ہے یا سینما کا کوئی دل لگی شو۔
۲
؎یعنی پاؤ ں کی پھسلن سے زبان کی لغزش زیادہ خطرناک ہے کہ پاؤ ں کی لغزش سے بدن چوٹ کھاتا ہے مگر زبان کی لغزش سے دل،جان،ایمان زخمی ہوتا ہے۔زبان کی لغزش سے ہی قتل و خون ہوتے ہیں،زبان ہی کی لغزش سے انسان کا فرو بے دین ہوجاتا ہے ابلیس اپنی زبان کی لغزش کی سزا اب تک پارہا ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4835