Main Icon

باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4834

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ عَنْ أَبِيْهِ عَنْ جَدِّهٖ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَيْلٌ لِمَنْ يُّحَدِّثُ فَيَكْذِبُ لِيُضْحِكَ بِهٖ الْقَوْمَ وَيْلٌ لَهٗ وَيْلٌ لَهُ . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْدَاوُدَ وَالدَّارَمِيُّ

وعن بهز بن حكيم عن أبيه عن جده قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ويل لمن يحدث فيكذب ليضحك به القوم ويل له ويل له . رواه أحمد والترمذي وأبوداود والدارمي

حدیث ترجمہ

روایت ہے بہز بن حکیم سے وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے راوی ۱∞؎فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے خرابی ہے اس کے لئے جو بات کرے تو جھوٹ بولے تاکہ اس سے قوم کو ہنسائے ۲؎اس کے لئے خرابی ہے اس کے لئے خرابی ہے ۳؎(احمد،ترمذی، ابو داؤد،دارمی)

شرح حدیث

۱∞؎بہز ابن حکیم ابن معاویہ ابن حیدہ قشیری بصری تابعی ہیں،ثقہ ہیں،ان کے والد حکیم ابن معاویہ کی صحابیت میں اختلاف ہے، معاویہ ابن حیدہ صحابی ہیں مگر صاحب مشکوۃ نے اپنی کتاب اکمال میں ان کا ذکر نہ فرمایا۔ (مرقات)۲؎لوگوں کو ہنسانے کے لیے تو جھوٹ بولنا ہمیشہ ہی جرم بلکہ ڈبل جرم مگر لوگوں کو منانے کے لیے سچی بات کہنا اگر کبھی کبھی ہو تو جرم نہیں۔خوش طبعی اچھی چیز ہے مگر اس کا عادی بن جانا گناہ ہے،کسی پریشان یا مغموم کو ہنسا دینے کے لیے اچھی و سچی دل لگی کی بات کہہ دینا ثواب ہے،حضرت عمر رضی الله عنہ نے ایک بار حضور صلی الله علیہ وسلم کو ہنسا دینے کے لیے اپنا گھریلو واقعہ بیان فرمایا جب کہ حضور نے اپنی ازواج پاک سے ایلاء کیا تھا یہ سنت فاروقی ہے۔بہرحال ایسے جائز کاموں میں بھی اعتدال چاہیے ان کا عادی بن جانا اچھا نہیں۔امام غزالی فرماتے ہیں کہ خوش طبعی کرنا ہو تو حضور صلی الله علیہ وسلم کی سی خوش طبعی کرے جو بالکل حق ہوتی تھی۔(مرقات)۳؎ویلکے معنی ہیں خرابی،افسوس،دوزخ کے ایک طبقہ کا نام بھی ویل ہے۔یہاں بمعنی خرابی۔تین بار ویل فرمانے میں اس جانب اشارہ ہے کہ ایسے شخص کیلئے دنیا میں بھی خرابی ہے،برزخ میں بھی ،آخرت میں بھی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4834