Main Icon

باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4851

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عبَّاسٍ أَنَّ رَجُلًا نَازَعَتْهُ الرِّيحُ رِدَاءَهٗ فَلَعَنَهَا. فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَلْعَنْهَا فَإِنَّهَا مَأْمُورَةٌ وَأَنَّهٗ مَنْ لَعَنَ شَيْئًا لَيْسَ لَهٗ بِأَهْلٍ رَجَعَتِ اللَّعْنَةُ عَلَيْهِ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ

وعن ابن عباس أن رجلا نازعته الريح رداءه فلعنها. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لا تلعنها فإنها مأمورة وأنه من لعن شيئا ليس له بأهل رجعت اللعنة عليه . رواه الترمذي وأبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے کہ ایک شخص کی چادر ہوا نے اس پر سے اڑادی اس نے ہوا پر لعنت کی ۱∞؎تو رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس پر لعنت نہ کرو کہ یہ تو زیر فرمان ہے ۲؎اور یقینًا جو کسی ایسی چیز پر لعنت کرے جو اس کی اہل نہ ہو تو لعنت اس پر ہی لوٹتی ہے ۳؎(ترمذی،ابوداؤ د)

شرح حدیث

۱∞؎جیسے آج بعض لوگ بیماریوں وغیرہ پر لعنت کردیتے ہیں یہ سخت برا ہے۔
۲
؎ہوا کا نرم و سخت چلنا تیری چادر کا اڑا دینا سب کچھ الله تعالٰی کے حکم سے ہے ان میں اس کا کوئی قصور نہیں پھر اس پر لعنت کیسی۔
۳
؎یعنی لعنت کرنے کا گناہ اس پر پڑے گایا خود لعنت پھٹکار رحمت سے دوری خود اس کو ملے گی۔معلوم ہوا کہ لعنت اور رحمت اپنے مستحق کو جانتی پہچانتی ہیں ان کے ٹھکانوں کو بھی جانتی ہیں حدیث اپنے ظاہر پر ہے کسی تاویل کی ضرورت نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4851