Main Icon

باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4829

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَجُلًا اِسْتَأْذَنَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَقَالَ: ائْذَنُوا لَهٗ فَبِئْسَ أَخُو الْعَشِيرَةِ فَلَمَّا جَلَسَ تَطَلَّقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَجْهِهٖ وَانْبَسَطَ إِلَيْهِ. فَلَمَّا انْطَلَقَ الرَّجُلُ قَالَتْ عَائِشَةُ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ قُلْتَ لَهُ: كَذَا وَكَذَا ثُمَّ تَطَلَّقْتَ فِي وَجْهِهٖ وَانْبَسَطْتَّ إِلَيْهِ. فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَتٰى عَهَدْتَّنِيْ فَحَّاشًا؟ ؟ إِنَّ شَرَّ النَّاسِ عِنْدَاللّٰہِ مَنْزِلَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَنْ تَرَكَهُ النَّاسُ اتِّقَاءَ شَرِّهٖ وَفِي رِوَايَةٍ: اتِّقَاءَ فُحْشِهٖ . (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن عائشة أن رجلا استأذن على النبي صلى الله عليه وسلم. فقال: ائذنوا له فبئس أخو العشيرة فلما جلس تطلق النبي صلى الله عليه وسلم في وجهه وانبسط إليه. فلما انطلق الرجل قالت عائشة: يا رسول الله قلت له: كذا وكذا ثم تطلقت في وجهه وانبسطت إليه. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: متى عهدتني فحاشا؟ ؟ إن شر الناس عنداللہ منزلة يوم القيامة من تركه الناس اتقاء شره وفي رواية: اتقاء فحشه . (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائشہ سے کہ ایک شخص نے نبی صلی الله علیہ وسلم سے حاضری کی اجازت مانگی فرمایا کہ اجازت دے دو یہ اس قبیلہ کا بُرا آدمی ہے ۱∞؎پھر جب وہ بیٹھا تو نبی صلی الله علیہ وسلم نے اس کے سامنے خندہ پیشانی کی اور کشادہ روئی فرمائی ۲؎پھر جب وہ شخص چلا گیا تو جناب عائشہ نے عرض کیا یارسول الله آپ نے اس کے متعلق ایسا ایسا فرمایا پھر اس کے اوپر خنداں پیشانی اور کشادہ روئی فرمائی ۳؎تو رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے مجھے فحش گو کب پایا ۴؎الله کے نزدیک بدترین درجہ والا قیامت کے دن وہ ہے جسے لوگ چھوڑ دیں اس کی شر سے ڈر کر اور ایک روایت میں ہے اس کے فحش سے خوف کر کے ۵؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎حضور انور نے یہ بات اس وقت فرمائی جب کہ وہ ابھی حضور کے پاس پہنچا نہ تھا دروازہ پر ہی تھا یعنی اس کے پس پشت بیان فرمایا جو لغۃً غیبت ہے اس لیے صاحب مشکوۃ یہ حدیث یہاں اس باب میں لائے۔اس شخص کا نام عیینہ ابن حصن تھا۔مؤلفۃ القلوب سے تھا،اپنی قوم کا سردار بہت سخت طبیعت تھا،حضور کے پردہ فرمانے کے بعد مرتد ہوگیا،پھر حضرت ابوبکر صدیق کے ہاتھ پر دوبارہ مسلمان ہوا مگر اس کا خاتمہ اسلام پر ہوا اس کا بھتیجا حرب ابن قیس پختہ مسلمان صاحب علم،حضرت عمر رضی الله عنہ کا خاص مقرب تھا،اس کا واقعہ وہ ہے جو بخاری شریف کتاب التفسیر میں ہے کہ یہ شخص اپنے اس بھتیجے کی معرفت حضرت عمر رضی الله عنہ کے پاس پہنچا اور آپ سے کہا کہ آپ انصاف نہیں کرتے ہم کو ہمارا حق نہیں دیتے،آپ ناراض ہوئے سزا دینی چاہی،حرب ابن قیس نے عرض کیا"خُذِ الْعَفْوَ وَاۡمُرْ بِالْعُرْفِ وَ اَعْرِضْ عَنِ الْجٰہِلِیۡنَ"۔حضور یہ جاہل ہے آپ اس سے درگزر کریں۔(مرقات،اشعہ)۲؎یعنی حضور مطابق عادت کریمہ کے بہت اخلاق سے پیش آئے کرم کریمانہ سے کلام فرمایا۔
۳
؎یہ کلام تو حضرت عروہ کا ہے اس لیےقلتنہ کہا بلکہفقالت عائشہفرمایا یا حضرت عائشہ کا ہی ہے مگر خود اپنے عمل کی حکایت اپنے نام سے کی۔مقصد یہ ہے کہ حضور کا یہ عمل شریف غیبت میں تو داخل نہیں ہے کہ اس کی غیر موجودگی میں اسے برا فرمایا اور سامنے اخلاق سے گفتگو فرمائی۔
۴
؎یعنی ہم دوست دشمن نیک و بد سب سے اخلاق ہی برتتے ہیں کسی سے کج خلقی سے پیش نہیں آتے تم کو ہمارا تجربہ ہے۔
۵
؎یعنی بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ لوگ ان سے نالاں ہوتے ہیں مگر اس سے ڈرکر اس کا احترام کرتے ہیں یہ انہیں میں سے ہے اگر میں اس کے سامنے وہ ہی کہتا جو اس کے پس پشت کہا تھا تو یہ میرے پاس آنا چھوڑ دیتا اور اس کی اصلاح نہ ہوسکتی۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کسی شخص کا مشہور عیب پس پشت بیان کرنا غیبت نہیں،نیز لوگوں کو اس کی شر سے بچانے کے لیے اس کی شر پر مطلع کردینا غیبت نہیں،نیز کسی کی اصلاح کے لیے اس کو برا نہ کہنا اس سے اخلاق سے پیش آنا سنت رسول الله ہے صلی الله علیہ و سلم۔ہرشخص کی اصلاح کے طریقے جدا گانہ ہیں حضور حکیم مطلق ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4829