Main Icon

باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4849

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَلَاعَنُوا بِلَعْنَةِ اللّٰهِ وَلَا بِغَضَبِ اللّٰهِ وَلَا بِجَهَنَّمَ .وَفِي رِوَايَةٍ وَلَا بِالنَّارِ .رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ

وعن سمرة بن جندب قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لا تلاعنوا بلعنة الله ولا بغضب الله ولا بجهنم .وفي رواية ولا بالنار .رواه الترمذي وأبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت سمرہ ابن جندب سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وآلہ وسلم نے کہ نہ تو الله کی لعنت سے لعنت کرو ۱∞؎اور نہ الله کے غضب سے نہ دوزخ سے اور ایک روایت میں ہے کہ نہ آگ سے ۲؎(ترمذی،ابوداؤ د)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی یہ نہ کہو کہ تجھ پر خدا کی لعنت الله کی پھٹکار،نہ یہ کہو کہ تجھ پر الله کا غضب الله کا قہر وغیرہ،لعنت وغضب کی بددعا نہ کرو نہ یہ کہو کہ تو جہنم میں جائے یا تیرا ٹھکانہ دوز خ ہو یا تجھے خدا دوزخ میں یا آگ میں ڈالے۔
۲
؎خیال رہے کہ یہ لعنت و پھٹکار اور یہ بد دعائیں کسی معین مسلمان کو منع ہیں غیرمعین کو اس کے وصف سے لعنت کرنا بالکل جائز ہے جیسے"لَعْنَتَ اللّٰهِ عَلَی الْکٰذِبِیۡنَ"رہے مشرکین و کفار اگر ان کا کفر پر مرنا یقین سے معلوم ہو تو انہیں نام لے کر لعنت کرنا جائز ہے ورنہ نہیں۔بہرحال لعنت بد دعائیں کوئی خاص عبادت نہیں کہ اس کی عادت نہ ڈالے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4849