Main Icon

باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4867

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَنَسٍ عَنْ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: يَا أَبَا ذَرٍّ أَلَا أَدُلُّكَ عَلٰى خَصْلَتَيْنِ هُمَا أَخَفُّ عَلَى الظُّهْرِ وَأَثْقَلُ فِي الْمِيزَانِ؟ قَالَ:قُلْتُ: بَلٰى.قَالَ: طُولُ الصَّمْتِ وَحُسْنُ الْخُلُقِ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهٖ مَا عَمِلَ الْخَلَائِقُ بِمِثْلِهِمَا

وعن أنس عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: يا أبا ذر ألا أدلك على خصلتين هما أخف على الظهر وأثقل في الميزان؟ قال:قلت: بلى.قال: طول الصمت وحسن الخلق والذي نفسي بيده ما عمل الخلائق بمثلهما

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس سے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا اے ابو ذر کیا میں تم کو ایسی دو خصلتوں پر رہبری نہ کروں جو پیٹھ پر ہلکی ہیں ۱∞؎ترازو میں بھاری ہیں ۲؎فرماتے ہیں میں نے عرض کیا ہاں تو فرمایا دراز خاموشی اور اچھی عادت ۳؎اس کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے مخلوق نے ان دو جیسے کام نہ کیے ہوں گے۴؎

شرح حدیث

۱∞؎یعنی ان پر عمل کرنا آسان ہے کچھ مشکل نہیں،چونکہ عمل میں پیٹھ کو بھی دخل ہوتا ہے اس لیے عمل کے لیے پیٹھ کا لفظ استعمال فرمایا جاتا ہے،نیز بوجھ پیٹھ پر ہی اٹھائے جاتے ہیں پیٹھ ہی ہلکا بھاری بوجھ محسوس کرتی ہے بہرحال کلام بڑا فصیح ہے یا مراد ہے زبان کی پیٹھ۔
۲
؎یعنی کل قیامت میں یہ خصلتیں جب گناہوں سے تولی جائیں گی تو یہ بھاری ہوں گی گناہ ہلکے ہوجائیں گے، قیامت میں ہمارے کام و کلام کی شکل و صورتیں بھی ہوں گی ان میں وزن بھی ہوں گے وہاں نیکیوں کا وزن اخلاص سے ہوگا۔
۳
؎خاموشی سے مراد دنیاوی باتوں سے خاموشی جس کے ساتھ فکر بھی ہے الله کے ذکر سے خاموشی اچھی نہیں۔اچھے اخلاق سے مراد ہے خلق و خالق کے حقوق اداکرنا،نرم وگرم حالات میں شاکر و صابر رہنا،چونکہ خاموشی اور صبروشکر میں کوئی خاص محنت نہیں پڑتی بلکہ ان کے ترک میں محنت ہوتی ہے اس لیے انہیں ہلکا فرمایا گیا۔
۴
؎کیونکہ انکے فائدے دین و دنیا دونوں جگہ دیکھے جائیں گے۔واقعی ان دو کاموں سے بڑھ کر معاملات کا کوئی کام نہیں،یہاں معاملات کے مقابلہ میں عظمت بیان فرمائی گئی ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4867