Main Icon

باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4827

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ: أَثْنٰى رَجُلٌ عَلٰى رَجُلٌ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: وَيْلَكَ قَطَعْتَ عُنُقَ أَخِيكَ ثَلَاثًا " مَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَادِحًا لَا مُحَالَةَ فَلْيَقُلْ: أَحْسِبُ فُلَانًا وَاللهُ حَسِيْبُهٗ إِنْ كَانَ يُرٰى أَنَّهٗ كَذٰلِكَ وَلَا يُزَكِّي عَلَى اللهِ أَحَدًا ". (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن أبي بكرة قال: أثنى رجل على رجل عند النبي صلى الله عليه وسلم فقال: ويلك قطعت عنق أخيك ثلاثا " من كان منكم مادحا لا محالة فليقل: أحسب فلانا والله حسيبه إن كان يرى أنه كذلك ولا يزكي على الله أحدا ". (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں کہ کسی شخص نے نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں کسی کی تعریف کی ۱∞؎تو فرمایا تیری خرابی تو نے اپنے بھائی کی گردن کاٹ دی تین بار فرمایا ۲؎تم میں سے جوکسی کی ضرور تعریف ہی کرے تو ہے کہ میں فلاں کو ایسا سمجھتا ہوں الله تعالٰی اس پر مطلع ہے بشرطیہ وہ اسے ایسا ہی جانتا ہو۳؎الله پر کسی کی صفائی بیان نہ کرے ۴؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی بہت زیادہ تعریف کی بہت مبالغہ سے،غالبًا وہ شخص وہاں موجود ہوگا جیساکہ اگلے مضمون سے ظاہر ہے دیکھو مرقات۔
۲
؎یعنی وہ شخص ایسی طبیعت کا ہے کہ تیری تعریف سن کر مغرور و متکبر ہوجاوے گا ایسے شخص کی منہ پر تعریف اسے نقصان دیتی ہے۔خیال رہے کہ بعض لوگ اپنی تعریف سن کر اور زیادہ نیکیاں کرنے لگتے ہیں اور بعض لوگ غرور میں آجاتے ہیں پہلے قسم کے لوگوں کے منہ پر تعریف کرنا مفید ہے،دوسرے لوگوں کے لیے نقصان دہ یہاں دوسری صورت کا ذکر ہے۔
۳
؎یعنی کسی کی تعریف کرنے کی دو شرطیں ہیں: ایک یہ کہ یقین کے ساتھ تعریف نہ کرے کہ وہ ایسا ہی ہے بلکہ اپنے خیال کا اظہار کرے۔دوسرے یہ کہ جو سمجھتا ہو وہ ہی کہے اگر واقعی اسے اچھا سمجھتا ہے تو اچھا کہے دل میں برا جاننا منہ سے اچھا کہنا جھوٹ بھی ہے اور خوشامد بھی۔
۴
؎یعنی واقعہ کی گواہی نہ دے کہ والله وہ بہت ہی اچھا ہے مگر یہ تمام شرائط اس کے متعلق ہیں جس کی برائی بھلائی نص سے ثابت نہ ہو۔حضرات انبیاءخصوصًا حضور محمد صلی الله علیہ وسلم ان کے آل و اصحاب کی تعریفیں کامل یقین سے کرے اور خوب کرے مثلًا میں کہہ سکتا ہوں کہ قسم رب تعالٰی کی حضور صلی الله علیہ وسلم اور تمام صحابہ الله کے پیارے بندے ہیں،یوں ہی وہ حضرات جنہیں مخلوق ولی الله کہتی ہے انہیں ہم یقین سے ولی کہہ سکتے ہیں کہ مخلوق کی زبان خالق کا قلم ہے لہذا یہ حدیث نہ تو آیت قرآنیہ کے خلاف ہے نہ دوسری احادیث کے،حضور فرماتے ہیںانتم شہداء الله فی الارض۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4827