Main Icon

باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4850

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا لَعَنَ شَيْئًا صَعِدَتِ اللَّعْنَةُ إِلَى السَّمَاءِ فَتُغْلَقُ أَبْوَابُ السَّمَاءِ دُونَهَا ثُمَّ تَهْبِطُ إِلَى الْأَرْضِ فَتُغْلَقُ أَبْوَابُهَا دُونَهَا ثُمَّ تَأْخُذُ يَمِينًا وَشِمَالًا فَإِذَا لَمْ تَجِدْ مَسَاغًا رَجَعَتْ إِلَى الَّذِي لُعِنَ فَإِنْ كَانَ لِذٰلِكَ أَهْلًا وَإِلَّا رَجَعَتْ إِلٰى قَائِلِهَا . رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ

وعن أبي الدرداء قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: إن العبد إذا لعن شيئا صعدت اللعنة إلى السماء فتغلق أبواب السماء دونها ثم تهبط إلى الأرض فتغلق أبوابها دونها ثم تأخذ يمينا وشمالا فإذا لم تجد مساغا رجعت إلى الذي لعن فإن كان لذلك أهلا وإلا رجعت إلى قائلها . رواه أبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوالدرداء سے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ کوئی بندہ جب کسی چیز پر لعنت کرتا ہے تو لعنت آسمان کی طرف چڑھ جاتی ہے ۱∞؎تو اس کے سامنے آسمان کے دروازے بند کردیئے جاتے ہیں پھر وہ زمین کی طرف لوٹتی ہے اور اس کے سامنے زمین کے دروازے بند کردیئے جاتے ہیں ۲؎پھر وہ داہنے بائیں پھرتی ہے۳؎پھر جب جگہ نہیں پاتی تو اس کی طرف لوٹتی ہے جس پر لعنت کی گئی تو اگر وہ اس کا اہل ہو تو فبہا ورنہ کہنے والے کی طرف لوٹ جاتی ہے۴؎(ابوداؤ د)

شرح حدیث

۱∞؎جیسے غبار دھواں وغیرہ بذاتِ خود اوپر چڑھتے ہیں ایسے ہی لعنت و پھٹکار بھی اوپر چڑھتی ہے مگر اسے آسمان میں داخلہ کی اجازت نہیں ہوتی کہ وہاں اس کا مستحق کوئی نہیں۔
۲
؎لہذا وہ لعنت زمین میں نہیں دھنس سکتی کہ وہاں بھی اس کا مستحق کوئی نہیں۔خیال رہے کہ ابلیس اور اس کی ذریت نہ تو آسمان میں رہتے ہیں نہ زمین کے اندر بلکہ اوپر اوپر ہی مارے مارے پھرتے ہیں لہذا اس فرمان پر کوئی غبار نہیں۔
۳
؎یعنی لعنت اس حیران پریشان چیزکی طرح دوڑتی گھومتی ہے جسے اپنا ٹھکانہ معلوم نہ ہو اور تلاش ٹھکانہ کے لیے حیران پریشان گھومے یا بطور تمثیل ارشاد ہوا ہے یا واقعہ ایسے ہی ہوتا ہے کیونکہ ہمارے تمام قول و فعل ایک شکل و حال رکھتے ہیں۔
۴
؎بہرحال لعنت یا تو ملعون پر پڑتی ہے اگر وہ اسکا اہل ہو ورنہ خود لاعن پر لہذا لعنت کرنا چاہیے ہی نہیں۔ سوچو کہ ان کا حال کیا ہوگا جو دن رات حضرات صحابہ پر تبرا اور لعن طعن کرتے رہتے ہیں،اسی طرح جو لوگ جانوروں کو،دھوپ کو،ہوا کو لعنت کر دیتے ہیں،بیماریوں کو کوستے پیٹتے ہیں اس سب کا وبال خود ان پر ہی پڑتا ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4850