Main Icon

باب:دواؤں اور دعاؤں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4573

دواؤں اور دعاؤں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ نَافِعٍ قَالَ قَالَ ابنُ عُمَرَ يَا نَافِعٌ! يَنْبِعُ بِيَ الدَّمُ فَأْتِنِي بِحَجَّامٍ وَاجْعَلْهُ شَابًّا وَلَا تَجْعَلهُ شَيْخًا وَلَا صَبِيًّاوَقَالَ ابْنُ عُمَرُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: الْحَجَامَةُ عَلَى الرِّيقِ أَمْثَلُ وَهِيَ تَزِيدُ فِي الْعَقْلِ وَ تَزِيدُ فِي الْحِفْظِ وَ تَزِيدُ الْحَافِظَ حِفْظًا فَمَنْ كَانَ مُحْتَجِمًا فَيَوْمَ الْخَمِيسِ عَلٰى اسْمِ اللّٰهِ تَعَالٰى وَاجْتَنِبُوا الْحِجَامَةَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَيَوْمَ السَّبْتِ وَيَوْمَ الْأَحَدِ فَاحْتَجِمُوا يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَيَوْمَ الثُّلَاثَاءِ وَاجْتَنِبُوا الْحِجَامَةَ يَوْمَ الْأَرْبِعَاءِ فَإِنَّهُ اليَوْمُ الَّذِي أُصِيبَ بِهٖ أَيُّوبُ فِي الْبَلَاءِ. وَمَا يَبْدُو جُذَامٌ وَلَا بَرَصٌ إِلَّا فِي يَوْمِ الْأَرْبَعَاءِ أَوْ لَيْلَةِ الْأَرْبَعَاءِ . رَوَاهُ ابنُ مَاجَه

وعن نافع قال قال ابن عمر يا نافع! ينبع بي الدم فأتني بحجام واجعله شابا ولا تجعله شيخا ولا صبياوقال ابن عمر: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: الحجامة على الريق أمثل وهي تزيد في العقل و تزيد في الحفظ و تزيد الحافظ حفظا فمن كان محتجما فيوم الخميس على اسم الله تعالى واجتنبوا الحجامة يوم الجمعة ويوم السبت ويوم الأحد فاحتجموا يوم الاثنين ويوم الثلاثاء واجتنبوا الحجامة يوم الأربعاء فإنه اليوم الذي أصيب به أيوب في البلاء. وما يبدو جذام ولا برص إلا في يوم الأربعاء أو ليلة الأربعاء . رواه ابن ماجه

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت نافع سے فرماتے ہیں فرمایا ابن عمر نے اے نافع میرا خون کھولتا ہے تو فصد والے کو میرے پاس لاؤ مگر جوان آدمی اختیارکرنا نہ بڈھا لینا اور نہ بچہ ۱∞؎فرماتے ہیں کہ ابن عمر نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ فصد نہار منہ پر اچھی ہے ۲؎وہ عقل میں اضافہ حفظ میں زیادتی کرتی ہے اور حافظ کا حافظہ بڑھاتی ہے۳؎جو فصدکرانا چاہے وہ اللہ کے نام پر جمعرات کے دن کرائے اور جمعہ،ہفتہ،اتوار کے دن فصد سے بچو۴؎پیر اور منگل کےدن فصد لو اور بدھ کے دن فصد سے بچو کہ یہ ہی وہ دن ہے جس میں ایوب علیہ السلام بلا میں مبتلا کیے گئے ۵؎اور کوڑھ اور سفید داغ نہیں شروع ہوتے مگر یا بدھ کے دن یا بدھ کی رات میں ۶؎(ابن ماجہ)

شرح حدیث

۱∞؎کیونکہ بڈھا اور بچہ کمزور ہوتے ہیں وہ فصد کا خون قوت سے نہیں کھینچ سکتے اس لیے جوان اور قوی آدمی سے فصد کھلوائی جاوے۔خیال رہے کہ بڈھا کا تجربہ زیادہ ہوتا ہے طاقت کم اور بچہ میں طاقت بھی کم تجربہ بھی کم،جوان میں اگرچہ تجربہ قدرے کم ہوتا ہے مگر طاقت زیادہ اس لیے آپریشن وغیرہ کے لیے جوان طبیب کو ڈھونڈو بڈھے کے بھی ہاتھ کانپ جاتے ہیں جس سے نشتر کہیں کا کہیں لگ جاتا ہے اس لیے جوان بہتر۔
۲
؎یعنی جب بھی فصد لو تو بغیر کھائے پئے لو نہار منہ باسی منہ۔ہم نے دیکھا کہ آپریشن سے پہلے مریض کو فاقہ کراتے ہیں بلکہ کچھ گھنٹے پہلے اس کا انیمہ کرکے پیٹ صاف کردیتے ہیں پھر آپریشن کرتے ہیں تاکہ ہرے زخم پر پیشاب پاخانہ نہ ہو قے وغیرہ نہ آئے آج کل کے ڈاکٹری و طبی اصول احادیث سے مستنبط ہیں۔
۳
؎نہار منہ فصد یا مطلقًا فصد کے یہ فوائد ہیں،دوسرا احتمال زیادہ قوی ہے بشرطیکہ ضرورۃً استعمال کی جاوے۔
۴
؎کیونکہ یہ دن فصد کے لیے اچھے نہیں اللہ تعالٰی نے بعضے دنوں میں بعض خصوصیات رکھی ہیں اس کی حکمتیں وہ ہی جانتا ہے۔ہمارے بزرگ کہتے تھے کہ آٹھ،اٹھارہ،اٹھائیس،اور تین،تیرہ،تئیس تاریخوں میں نکاح نہ کرے یہ تاریخیں نکاح کے لیے اچھی نہیں۔علامہ شامی نے لکھا کہ بدھ کے دن بیمار پرسی نہ کرے کہ لوگ اس کو اچھا نہیں سمجھتے۔
۵
؎ایوب علیہ السلام نے بدھ کے دن فصد لی تو آپ پر بیماری مسلط ہوئی یا بدھ کے دن آپ کی بیماری کی ابتداء ہوئی۔معلوم ہوا کہ بدھ کا دن عتاب کا دن ہے بلکہ بعض قوموں پر بدھ کے دن عذاب آیا لہذا یہ دن کفار پر عذاب کا بھی ہے اورمنحوس ہے،رب تعالی بدھ کے متعلق فرماتا ہے :"في یَوْمِ نَحْسٍ مُّسْتَمِرٍّ"۔اس سے ثابت ہوا کہ عتاب وعذاب کا دن دائمی منحوس ہوتا ہے تو ضروری ہے کہ رحمت کا دن دائمی مبارک ہو لہذا پیر کا دن بڑا ہی مبارک ہے کہ حضور انور کی ولادت کا دن ہے۔
۶
؎اس سے پتہ لگا کہ بدھ کے دن کی نحوست دائمی ہے،بعض روایات میں ہے کہ پیر کے دن ایوب علیہ السلام کو شِفا عطا ہوئی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4573