- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 6
- دواؤں اور دعاؤں کا بیان
- حدیث نمبر 4573
باب:دواؤں اور دعاؤں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4573
دواؤں اور دعاؤں کا بیان - جلد 6
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
- حدیث
-
- 4514
- 4515
- 4516
- 4517
- 4518
- 4519
- 4520
- 4521
- 4522
- 4523
- 4524
- 4525
- 4526
- 4527
- 4528
- 4529
- 4530
- 4531
- 4532
- 4533
- 4534
- 4535
- 4536
- 4537
- 4538
- 4539
- 4540
- 4541
- 4542
- 4543
- 4544
- 4545
- 4546
- 4547
- 4548
- 4549
- 4550
- 4551
- 4552
- 4553
- 4554
- 4555
- 4556
- 4557
- 4558
- 4559
- 4560
- 4561
- 4562
- 4563
- 4564
- 4565
- 4566
- 4567
- 4568
- 4569
- 4570
- 4571
- 4572
- 4573
- 4574
- 4575
- اگلا
حدیث مبارکہ
وَعَنْ نَافِعٍ قَالَ قَالَ ابنُ عُمَرَ يَا نَافِعٌ! يَنْبِعُ بِيَ الدَّمُ فَأْتِنِي بِحَجَّامٍ وَاجْعَلْهُ شَابًّا وَلَا تَجْعَلهُ شَيْخًا وَلَا صَبِيًّاوَقَالَ ابْنُ عُمَرُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: الْحَجَامَةُ عَلَى الرِّيقِ أَمْثَلُ وَهِيَ تَزِيدُ فِي الْعَقْلِ وَ تَزِيدُ فِي الْحِفْظِ وَ تَزِيدُ الْحَافِظَ حِفْظًا فَمَنْ كَانَ مُحْتَجِمًا فَيَوْمَ الْخَمِيسِ عَلٰى اسْمِ اللّٰهِ تَعَالٰى وَاجْتَنِبُوا الْحِجَامَةَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَيَوْمَ السَّبْتِ وَيَوْمَ الْأَحَدِ فَاحْتَجِمُوا يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَيَوْمَ الثُّلَاثَاءِ وَاجْتَنِبُوا الْحِجَامَةَ يَوْمَ الْأَرْبِعَاءِ فَإِنَّهُ اليَوْمُ الَّذِي أُصِيبَ بِهٖ أَيُّوبُ فِي الْبَلَاءِ. وَمَا يَبْدُو جُذَامٌ وَلَا بَرَصٌ إِلَّا فِي يَوْمِ الْأَرْبَعَاءِ أَوْ لَيْلَةِ الْأَرْبَعَاءِ . رَوَاهُ ابنُ مَاجَه
وعن نافع قال قال ابن عمر يا نافع! ينبع بي الدم فأتني بحجام واجعله شابا ولا تجعله شيخا ولا صبياوقال ابن عمر: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: الحجامة على الريق أمثل وهي تزيد في العقل و تزيد في الحفظ و تزيد الحافظ حفظا فمن كان محتجما فيوم الخميس على اسم الله تعالى واجتنبوا الحجامة يوم الجمعة ويوم السبت ويوم الأحد فاحتجموا يوم الاثنين ويوم الثلاثاء واجتنبوا الحجامة يوم الأربعاء فإنه اليوم الذي أصيب به أيوب في البلاء. وما يبدو جذام ولا برص إلا في يوم الأربعاء أو ليلة الأربعاء . رواه ابن ماجه
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت نافع سے فرماتے ہیں فرمایا ابن عمر نے اے نافع میرا خون کھولتا ہے تو فصد والے کو میرے پاس لاؤ مگر جوان آدمی اختیارکرنا نہ بڈھا لینا اور نہ بچہ ۱∞؎فرماتے ہیں کہ ابن عمر نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ فصد نہار منہ پر اچھی ہے ۲؎وہ عقل میں اضافہ حفظ میں زیادتی کرتی ہے اور حافظ کا حافظہ بڑھاتی ہے۳؎جو فصدکرانا چاہے وہ اللہ کے نام پر جمعرات کے دن کرائے اور جمعہ،ہفتہ،اتوار کے دن فصد سے بچو۴؎پیر اور منگل کےدن فصد لو اور بدھ کے دن فصد سے بچو کہ یہ ہی وہ دن ہے جس میں ایوب علیہ السلام بلا میں مبتلا کیے گئے ۵؎اور کوڑھ اور سفید داغ نہیں شروع ہوتے مگر یا بدھ کے دن یا بدھ کی رات میں ۶؎(ابن ماجہ)
شرح حدیث
۱∞؎کیونکہ بڈھا اور بچہ کمزور ہوتے ہیں وہ فصد کا خون قوت سے نہیں کھینچ سکتے اس لیے جوان اور قوی آدمی سے فصد کھلوائی جاوے۔خیال رہے کہ بڈھا کا تجربہ زیادہ ہوتا ہے طاقت کم اور بچہ میں طاقت بھی کم تجربہ بھی کم،جوان میں اگرچہ تجربہ قدرے کم ہوتا ہے مگر طاقت زیادہ اس لیے آپریشن وغیرہ کے لیے جوان طبیب کو ڈھونڈو بڈھے کے بھی ہاتھ کانپ جاتے ہیں جس سے نشتر کہیں کا کہیں لگ جاتا ہے اس لیے جوان بہتر۔
۲؎یعنی جب بھی فصد لو تو بغیر کھائے پئے لو نہار منہ باسی منہ۔ہم نے دیکھا کہ آپریشن سے پہلے مریض کو فاقہ کراتے ہیں بلکہ کچھ گھنٹے پہلے اس کا انیمہ کرکے پیٹ صاف کردیتے ہیں پھر آپریشن کرتے ہیں تاکہ ہرے زخم پر پیشاب پاخانہ نہ ہو قے وغیرہ نہ آئے آج کل کے ڈاکٹری و طبی اصول احادیث سے مستنبط ہیں۔
۳؎نہار منہ فصد یا مطلقًا فصد کے یہ فوائد ہیں،دوسرا احتمال زیادہ قوی ہے بشرطیکہ ضرورۃً استعمال کی جاوے۔
۴؎کیونکہ یہ دن فصد کے لیے اچھے نہیں اللہ تعالٰی نے بعضے دنوں میں بعض خصوصیات رکھی ہیں اس کی حکمتیں وہ ہی جانتا ہے۔ہمارے بزرگ کہتے تھے کہ آٹھ،اٹھارہ،اٹھائیس،اور تین،تیرہ،تئیس تاریخوں میں نکاح نہ کرے یہ تاریخیں نکاح کے لیے اچھی نہیں۔علامہ شامی نے لکھا کہ بدھ کے دن بیمار پرسی نہ کرے کہ لوگ اس کو اچھا نہیں سمجھتے۔
۵؎ایوب علیہ السلام نے بدھ کے دن فصد لی تو آپ پر بیماری مسلط ہوئی یا بدھ کے دن آپ کی بیماری کی ابتداء ہوئی۔معلوم ہوا کہ بدھ کا دن عتاب کا دن ہے بلکہ بعض قوموں پر بدھ کے دن عذاب آیا لہذا یہ دن کفار پر عذاب کا بھی ہے اورمنحوس ہے،رب تعالی بدھ کے متعلق فرماتا ہے :"في یَوْمِ نَحْسٍ مُّسْتَمِرٍّ"۔اس سے ثابت ہوا کہ عتاب وعذاب کا دن دائمی منحوس ہوتا ہے تو ضروری ہے کہ رحمت کا دن دائمی مبارک ہو لہذا پیر کا دن بڑا ہی مبارک ہے کہ حضور انور کی ولادت کا دن ہے۔
۶؎اس سے پتہ لگا کہ بدھ کے دن کی نحوست دائمی ہے،بعض روایات میں ہے کہ پیر کے دن ایوب علیہ السلام کو شِفا عطا ہوئی۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4573