Main Icon

باب:دواؤں اور دعاؤں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4544

دواؤں اور دعاؤں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ:حَدَّثَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لَيْلَةٍ أُسَرِيَ بِهٖ : أَنَّهٗ لَمْ يَمُرَّ عَلٰى مَلَأٍ مِنَ الْمَلَائِكَةِ إِلَّا أَمَرُوهُ: «مُرْ أُمَّتَكَ بِالْحِجَامَةِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَه وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ : هٰذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ غَرِيْبٌ

وعن ابن مسعود قال:حدث رسول الله صلى الله عليه وسلم عن ليلة أسري به : أنه لم يمر على ملأ من الملائكة إلا أمروه: «مر أمتك بالحجامة» . رواه الترمذي وابن ماجه وقال الترمذي : هذا حديث حسن غريب

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن مسعود سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے اس رات کے متعلق خبر دی جس میں آپ کو معراج کرائی گئی کہ آپ فرشتوں کی کسی جماعت پر نہ گزرے مگر انہوں نے عرض کیا ۱∞؎کہ آپ اپنی امت کو پچھنے کا حکم دیں ۲؎(ترمذی،ابن ماجہ)اور ترمذی نے فرمایا کہ یہ حدیث حسن غریب ہے۔

شرح حدیث

۱∞؎یہاں امربمعنی مشورہ ہے یا بمعنی وجوبی حکم کیونکہ بعض بیماریوں میں فصد واجب ہوجاتی ہے۔اس حدیث سے دو مسئلہ معلوم ہوئے: کہ ایک یہ کہ فرشتوں کو الله تعالٰی نے بہت وسیع علم بخشا جس میں علم طب بھی ہے وہ حضرات بیماریوں اور دواؤں سے بھی واقف ہیں۔ دوسرے یہ کہ امت پر حاکم حضور صلی الله علیہ وسلم ہیں نہ کہ فرشتے حتی کہ خدا تعالٰی بھی بندوں سے براہ راست کلام نہیں فرماتا نہ ان پر خود احکام فرماتا ہے جو کچھ کہتا ہے نبی کی معرفت سے کہتا ہے خدا کا فرمان نبی کی معرفت پہنچے تو سب کے لیے قابلِ عمل ہوتا ہے۔
۲
؎امت سے مراد ساری امت نہیں بلکہ خاص ملک کے خاص بیماریوں والے امتی مراد ہیں گرم ملک کے لوگوں کو فصد بہت مفید رہتی ہے لہذا اس سے یہ لازم نہیں کہ ہرمسلمان فصدکرلیا کرے بغیر فصد کے وہ مسلمان نہ ہو۔یہاں حجامت سے مراد فصد پچھنے،بھری سنگی سب ہی ہیں،بعض شارحین نےامتكسے مراد لی ہےقومكیعنی آپ اپنی قوم اہل عرب کو حکم دیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4544