Main Icon

باب:دواؤں اور دعاؤں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4538

دواؤں اور دعاؤں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللّٰهَ أَنْزَلَ الدَّاءَ وَالدَّوَاءَ وَجَعَلَ لِكُلِّ دَاءٍ دَوَاءً فَتَدَاوَوا وَلَا تَدَاوَوْا بِحَرَامٍ» . رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ

وعن أبي الدرداء قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إن الله أنزل الداء والدواء وجعل لكل داء دواء فتداووا ولا تداووا بحرام» . رواه أبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوالدرداء سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ الله تعالٰی نے بیماریاں اور دوائیں اتاری ہیں اور ہر بیماری کے لیے دوا بنائی ۱∞؎تو تم لوگ دوا کرو اور حرام سے دوا نہ کرو ۲؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی ہر بیماری کے لیے حلال و جائز دوا پیدا فرمائی ہےجیساکہ آئندہ عبارت سے معلوم ہورہاہے۔
۲
؎یعنی شراب پیشاب وغیرہ حرام چیزوں سے دوا نہ کرو،طبرانی کی روایت میں ہے کہ اللہ تعالٰی نے حرام میں شفا نہیں رکھی،مسلم شریف میں ہے کہ حضور نے شراب کے متعلق فرمایا کہ وہ دوا نہیں نری داءہے(بیماری)امام سبکی فرماتے ہیں کہ آیت کریمہ"فِیْهِمَاۤ اِثْمٌ كَبِیْرٌ وَّ مَنَافِعُ لِلنَّاسِ٘"منسوخ ہے۔جب جوا شراب حرام کردیئے گئے تو ان کے نفع سلب ہوگئے۔(مرقات)فقہاء فرماتے ہیں کہ اگر کسی کے متعلق حاذق طبیبوں کا اتفاق ہوجاوے کہ اس کی دواء شراب کے سواء اور کوئی نہیں تو وہ اس مریض کے لیے بقدر ضرورت حرام نہیں رہتی حلال ہوجاتی ہے،پھر بھی شفا حرام میں نہ ہوئی۔(اشعہ)اس کی دلیل حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا عرینہ والوں سے فرمانا ہے کہ تم اونٹوں کا دودھ اور پیشاب پیو وہاں وحی سے پیشاب میں شفا معلوم ہوئی،یہاں اجماع اطباء سے شفا معلوم ہوئی مگر اولًا تو حاذق طبیب کا ملنا مشکل ہے پھر حاذقوں کا اجماع بہت ہی مشکل،میں نے بعض حاذق طبیبوں سے سنا کہ شہد بہترین بدل ہے شراب کا اگر کسی مرض کے لیے اطباء شراب بتاویں اس میں شہد استعمال کرو وہ ہی فائدہ ہوگا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4538