Main Icon

باب:دواؤں اور دعاؤں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4542

دواؤں اور دعاؤں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي كَبْشَة الْأَنْمَارِيِّ: أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَحْتَجِمُ عَلَى هَامَتِهٖ وَبَيْنَ كتِفَيْهِ وَهُوَ يَقُولُ: «مَنْ أَهْرَاقَ مِنْ هٰذِهِ الدِّمَاءِ فَلَا يَضُرُّهٗ أَنْ لَا يَتَدَاوٰى بِشَيْءٍ لِشَيْءٍ» . رَوَاهُ أَبُوْدَاوُدَ وَابْنُ مَاجَه

وعن أبي كبشة الأنماري: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يحتجم على هامته وبين كتفيه وهو يقول: «من أهراق من هذه الدماء فلا يضره أن لا يتداوى بشيء لشيء» . رواه أبوداود وابن ماجه

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو کبشہ انماری سے ۱∞؎کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم پچھنے لگواتے تھے اپنی کھوپڑی پر اور اپنے دونوں کندھوں کے درمیان۲؎اور آپ فرماتے تھے کہ جوکوئی ان خونوں میں سے بہاوے۳؎تو اسے مضر نہیں کہ وہ کسی بیماری کے لیے کوئی دوا نہ کرے۴؎(ابوداؤد،ابن ماجہ)

شرح حدیث

۱∞؎آپ کا نام عمرو ابن سعید ہے،کنیت ابوکبشہ،قبیلہ انمار سے ہیں،شام میں قیام رہا،آپ سے روایات بہت کم ہیں۔
۲
؎یا تو ایک دم ان دونوں جگہ فصد لیتے تھے یا کبھی سر میں کبھی کندھے پر دوسرا احتمال زیادہ قوی ہے۔
۳
؎خون سے مراد خون فاسد ہے جسے اس فن کے لوگ پہچانتے ہیں یا زیادہ خون جس کی جسم میں موجودگی بیماریوں کا سبب ہے۔(اشعہ)اور اسی خون سے مراد یا تو ان مقامات کا خون ہے یا مطلقًا خون خواہ کسی عضو کا فاسد یا زائد خون ہو۔
۴
؎بیماریوں سے مراد وہ بیماریاں ہیں جن کا تعلق اس خون سے ہے لہذابشیئفرمانا بالکل درست ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4542