Main Icon

باب:دواؤں اور دعاؤں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4546

دواؤں اور دعاؤں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحْتَجِمُ فِي الْأَخْدَعَيْنِ وَالْكَاهِلِ. رَوَاهُ أَبُوْدَاوُدَ وَزَادَ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ: وَكَانَ يَحْتَجِمُ لِسَبْعَ عَشْرَةَ وَتِسْعَ عَشْرَة وَإِحْدَى وَعِشْرِينَ.

وعن أنس قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يحتجم في الأخدعين والكاهل. رواه أبوداود وزاد الترمذي وابن ماجه: وكان يحتجم لسبع عشرة وتسع عشرة وإحدى وعشرين.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی الله علیہ وسلم گردن اور کندھے کی رگوں میں پچھنے لگواتے تھے ۱∞؎(ابوداؤد)اور ترمذی و ابن ماجہ نے یہ زیادہ کیا کہ آپ سترہ اور انیس اور اکیس کو فصد لیتے تھے ۲؎

شرح حدیث

۱∞؎اخدعینگردن کی دو طرفہ رگوں کو کہتے ہیں،یہ رگیںحبل وریدکی ہی شاخیں ہیں۔اور گردن میں پیٹھ سے متصل پچھنے لگوانا بہت سی بیماریوں میں مفید ہے،ہم لوگوں کو چاہیے کہ بغیر طبیب حاذق کے مشورہ کے پچھنے ہرگز نہ کرائیں اہل عرب اور ہماری بیماریوں میں بڑا فرق ہے۔
۲
؎یعنی آپ اکثر چاند کی ان طاق تاریخوں میں فصد لیتے تھے ان تاریخوں میں خون میں جوش نہیں ہوتا فصد سے زیادہ خون بہ جانے کا خطرہ نہیں ہوتا،تاریخوں کو ہمارے حالات میں بڑا دخل ہے حضور صلی الله علیہ وسلم ان تمام کیفیات سے واقف ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4546