Main Icon

باب:دواؤں اور دعاؤں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4519

دواؤں اور دعاؤں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلٰى أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، طَبِيبًافَقَطَعَ مِنْهُ عِرْقًا ثُمَّ كَوَاهُ عَلَيْهِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعنه قال: بعث رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى أبي بن كعب، طبيبافقطع منه عرقا ثم كواه عليه. رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ابی ابن کعب کے پاس ایک طبیب بھیجا اس نے آپ کی رگ کاٹ دی پھر اس پر داغ لگادیا ۱∞؎(مسلم)۲؎

شرح حدیث

۱∞؎یعنی ایک بار تیر گرم کرکے زخم پر داغ لگایا مگر پھر ورم آگیا تو دوبارہ تیر سے داغ لگادیا گیا اس سے بھی داغ کا جواز ثابت ہوا۔اس سے معلوم ہوا کہ الله تعالٰی نے اپنے محبوب کو ہر فن کا ماہر بنایا ہے کہ یعنی داغ لگانا ہر شخص کا کام نہیں اس کے لیے بڑے کمال کی ضرورت ہے۔
۲
؎اس سے معلوم ہوا کہ آپریشن بڑا پرانا علاج ہے زمانہ نبوی میں اس کی اصل موجودتھی چیر پھاڑ رگ کی کاٹ چھانٹ یہ ہی آپریشن کی حقیقت ہے،چونکہ رگ کٹ جانے سے تمام خون نکل جانے کا اندیشہ تھا اس لیے زخم کو آگ سے جھلسا دیا گیا تاکہ خون بند ہوجاوے،اب خون بند کرنے کے لیے ٹیکہ لگایا جاتا ہے ٹیکہ یہاں سے ماخوذ ہوسکتا ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4519