Main Icon

باب:دواؤں اور دعاؤں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4530

دواؤں اور دعاؤں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيّ قَالَ: كُنَّا نَرْقِي فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللّٰهِ كَيْفَ تَرٰى فِي ذٰلِكَ؟ فَقَالَ: «اعْرِضُوا عَلَيَّ رُقَاكُمْ لَا بَأْسَ بِالرُّقٰى مَا لَمْ يَكُنْ فِيهِ شِرْكٌ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعن عوف بن مالك الأشجعي قال: كنا نرقي في الجاهلية فقلنا: يا رسول الله كيف ترى في ذلك؟ فقال: «اعرضوا علي رقاكم لا بأس بالرقى ما لم يكن فيه شرك» . رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عوف ابن مالک اشجعی سے ۱∞؎فرماتے ہیں کہ ہم دور جاہلیت میں دم کرتے تھے تو ہم نے عرض کیا یارسول الله اس بارے میں آپ کی کیا رائے عالی ہے تو فرمایا ہم پر پیش کرو جھاڑ پھونک میں کوئی حرج نہیں جب تک کہ اس میں شرک نہ ہو ۲؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎آپ اولًا غزوہ خیبر میں شریک ہوئے،قبیلہ اشجع کا جھنڈا آپ کے ہاتھ میں تھا فتح مکہ کے دن،آخر میں شام میں رہے، ۷۳ھ؁∞ تہتر میں وفات پائی۔
۲
؎اس حدیث کی بناء پر حضرات صوفیاء فرماتے ہیں کہ عمل کی تاثیر کے لیے شیخ کو عمل سنالینا اس سے اجازت لے لینا مفید ہے اگرچہ ا س کے معنی جانتا ہو۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4530