Main Icon

باب:دواؤں اور دعاؤں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4517

دواؤں اور دعاؤں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: رُمِيَ أُبَيٌّ يَوْمَ الْأَحْزَابِ عَلٰى أَكْحَلِهٖ فَكَوَاهُ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعن جابر قال: رمي أبي يوم الأحزاب على أكحله فكواه رسول الله صلى الله عليه وسلم. رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ احزاب کے دن ابی کو ان کی رگ حیات پر تیرا مارا گیا ۱∞؎تو اسے رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے داغ دیا ۲؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎احادیث شریفہ میں داغ سے ممانعت بھی آئی ہے اور داغ لگانا بھی وارد ہے اس لیے محدثین نے ان کی مطابقت کی بہت وجہیں بیان فرمائیں: ایک یہ کہ داغ بیان جوازکے لیے ہے اور ممانعت بیان کراہت کے لیے یعنی داغ سے علاج کرنا جائز ہے مگر بہتر نہیں۔دوسرے یہ کہ جب دوسرے علاج ہوسکتے ہوں تو داغ نہ لگاؤ اگر اس کے سواء اورکوئی علاج نہ ہو تو لگاؤ۔تیسرے یہ کہ اہلِ عرب داغ کو آخری یقینی علاج سمجھتے تھے ان کی نظر رب تعالٰی سے ہٹ کر داغ پر اڑگئی،توکل علی اللهجاتا رہا تھا تعلیم توکل کے لیے ممانعت فرمائی گئی،اگر الله پرتوکل ہو داغ کو محض دواء سمجھے تو جائز ہے۔چوتھے یہ کہ جہاں داغ لگانا خطرناک ہو وہاں ممنوع ہے غیر خطرہ کی صورت میں جائز۔کیّکے معنی ہیں داغ،عرب میں لوہا گرم کرکے زخم پر لگادیتے ہیں اسےکیّکہا جاتا ہے۔
۲
؎حضرت ابی ابن کعب خزرجی انصاری ہیں،بڑے قاری تھے،آپ ان چھ صحابہ سے ہیں جنہوں نے قرآن کریم حفظ کیا تھا،حضور نے آپ کی کنیت ابوالمنذر رکھی، ۱۹ھ؁∞ میں مدینہ منورہ میں وصال ہوا۔احزاب غزوہ خندق کا نام ہے۔اکحل رگ حیوۃ کو کہتے ہیں یہ کلائی کے درمیان ہوتی ہے جیسے ران کی رگ کو نساء، پیٹھ کی رگ کو ابہر کہا جاتا ہے،اگر اکحل کٹ جاوے تو خون بند نہیں ہوتا اور موت ہوجاتی ہے اگر اس کو داغ دیا جاوے تو خون بند ہوجاتا ہے۔۱∞؎احادیث شریفہ میں داغ سے ممانعت بھی آئی ہے اور داغ لگانا بھی وارد ہے اس لیے محدثین نے ان کی مطابقت کی بہت وجہیں بیان فرمائیں: ایک یہ کہ داغ بیان جوازکے لیے ہے اور ممانعت بیان کراہت کے لیے یعنی داغ سے علاج کرنا جائز ہے مگر بہتر نہیں۔دوسرے یہ کہ جب دوسرے علاج ہوسکتے ہوں تو داغ نہ لگاؤ اگر اس کے سواء اورکوئی علاج نہ ہو تو لگاؤ۔تیسرے یہ کہ اہلِ عرب داغ کو آخری یقینی علاج سمجھتے تھے ان کی نظر رب تعالٰی سے ہٹ کر داغ پر اڑگئی،توکل علی اللهجاتا رہا تھا تعلیم توکل کے لیے ممانعت فرمائی گئی،اگر الله پرتوکل ہو داغ کو محض دواء سمجھے تو جائز ہے۔چوتھے یہ کہ جہاں داغ لگانا خطرناک ہو وہاں ممنوع ہے غیر خطرہ کی صورت میں جائز۔کیّکے معنی ہیں داغ،عرب میں لوہا گرم کرکے زخم پر لگادیتے ہیں اسےکیّکہا جاتا ہے۔
۲
؎حضرت ابی ابن کعب خزرجی انصاری ہیں،بڑے قاری تھے،آپ ان چھ صحابہ سے ہیں جنہوں نے قرآن کریم حفظ کیا تھا،حضور نے آپ کی کنیت ابوالمنذر رکھی، ۱۹ھ؁∞ میں مدینہ منورہ میں وصال ہوا۔احزاب غزوہ خندق کا نام ہے۔اکحل رگ حیوۃ کو کہتے ہیں یہ کلائی کے درمیان ہوتی ہے جیسے ران کی رگ کو نساء، پیٹھ کی رگ کو ابہر کہا جاتا ہے،اگر اکحل کٹ جاوے تو خون بند نہیں ہوتا اور موت ہوجاتی ہے اگر اس کو داغ دیا جاوے تو خون بند ہوجاتا ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4517