- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 6
- دواؤں اور دعاؤں کا بیان
- حدیث نمبر 4562
باب:دواؤں اور دعاؤں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4562
دواؤں اور دعاؤں کا بیان - جلد 6
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
- حدیث
-
- 4514
- 4515
- 4516
- 4517
- 4518
- 4519
- 4520
- 4521
- 4522
- 4523
- 4524
- 4525
- 4526
- 4527
- 4528
- 4529
- 4530
- 4531
- 4532
- 4533
- 4534
- 4535
- 4536
- 4537
- 4538
- 4539
- 4540
- 4541
- 4542
- 4543
- 4544
- 4545
- 4546
- 4547
- 4548
- 4549
- 4550
- 4551
- 4552
- 4553
- 4554
- 4555
- 4556
- 4557
- 4558
- 4559
- 4560
- 4561
- 4562
- 4563
- 4564
- 4565
- 4566
- 4567
- 4568
- 4569
- 4570
- 4571
- 4572
- 4573
- 4574
- 4575
- اگلا
حدیث مبارکہ
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ قَالَ: رَأٰى عَامِرُ بْنُ رَبِيعَةَ سَهْلَ بْنَ حُنَيْفٍ يَغْتَسِلُ فَقَالَ: وَاللّٰهِ مَا رَأَيْتُ كَالْيَوْمِ وَلَا جِلْدَ مُخَبَّأَةٍ قَالَ: فَلُبِطَ سَهْلٌ فَأُتِيَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقِيلَ لَهٗ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ هَلْ لَكَ فِي سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ؟ وَاللّٰهِ مَا يَرْفَعُ رَأْسَهٗ فَقَالَ: «هَلْ تَتَّهِمُونَ لَهٗ أَحَدًا؟» فَقَالُوا: نَتَّهِمُ عَامِرَ بْنَ رَبِيعَةَ قَالَ: فَدَعَا رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامِرًا فَتَغَلَّظَ عَلَيْهِ وَقَالَ: «عَلَامَ يَقْتُلُ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ؟ أَلَا بَرَّكْتَ؟ اغْتَسِلْ لَهٗ» . فَغَسَلَ لَهٗ عَامِرٌ وَجْهَهٗ وَيَدَيْهِ وَمِرْفَقَيْهِ وَرُكْبَتَيْهِ وَأَطْرَافَ رِجْلَيْهِ وَدَاخِلَةَ إِزَارِهٖ فِي قَدَحٍ ثُمَّ صُبَّ عَلَيْهِ فَرَاحَ مَعَ النَّاسِ لَيْسَ لَهٗ بَأْسٌ. رَوَاهُ فِي “شَرْحِ السُّنَّةِ”. وَرَوَاهُ مَالِكٌ وَفِي رِوَايَتِهٖ : قَالَ: «إِنَّ الْعَيْنَ حَقٌّ تَوَضَّأ لَهٗ" فَتَوَضَّأَ لَهٗ»
وعن أبي أمامة بن سهل بن حنيف قال: رأى عامر بن ربيعة سهل بن حنيف يغتسل فقال: والله ما رأيت كاليوم ولا جلد مخبأة قال: فلبط سهل فأتي رسول الله صلى الله عليه وسلم فقيل له: يا رسول الله هل لك في سهل بن حنيف؟ والله ما يرفع رأسه فقال: «هل تتهمون له أحدا؟» فقالوا: نتهم عامر بن ربيعة قال: فدعا رسول الله صلى الله عليه وسلم عامرا فتغلظ عليه وقال: «علام يقتل أحدكم أخاه؟ ألا بركت؟ اغتسل له» . فغسل له عامر وجهه ويديه ومرفقيه وركبتيه وأطراف رجليه وداخلة إزاره في قدح ثم صب عليه فراح مع الناس ليس له بأس. رواه في “شرح السنة”. ورواه مالك وفي روايته : قال: «إن العين حق توضأ له" فتوضأ له»
حدیث ترجمہ
روایت ہے ابو امامہ ابن سہل ابن حنیف سے ۱∞؎فرماتے ہیں کہ عامر ابن ربیعہ نے سہل ابن حنیف کو دیکھا ۲؎جو نہارہے تھے تو بولے الله کی قسم میں نے آج کا سا دن دیکھا نہ ایسی محفوظ کھالی ۳؎فرماتے ہیں کہ فورًا سہل گر گئے پھر رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں حاضری دی گئی تو عرض کیا گیا یارسول الله کیا حضور کو سہل ابن حنیف کے علاج میں رغبت ہے خدا کی قسم وہ تو اپنا سر بھی نہیں اٹھاتے ۴؎تو فرمایا کیا تم انکے متعلق کسی پر شبہ کرتے ہو بولے ہم عامر ابن ربیعہ پر شبہ کرتے ہیں فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے عامر کو بلایا ان پر ناراض ہوئے اور فرمایا کہ تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو کیوں قتل کرتا ہے تم نے دعاء برکت کیوں نہ کی ۵؎اچھا اب ان کے لیے دھوؤ ۶؎چنانچہ عامر نے ان کے لیے اپنا منہ اور ہاتھ کہنیاں اور گھٹنے اور اپنے پاؤں کے کنارے اور تہند کا داخلی حصہ ۷؎ایک پیالہ میں دھویا پھر اس پر ڈالا گیا چنانچہ وہ لوگوں کے ساتھ چل دیا اسے کوئی تکلیف نہ تھی ۸؎(شرح)اسے مالک نے بھی روایت کیا اور ان کی روایت میں ہے کہ فرمایا نظر حق ہے تم اس کے لیے وضو کرو انہوں نے وضو کیا ۹؎
شرح حدیث
۱∞؎آپ کا نام سعد ابن سہل ہے،کنیت ابو امامہ ،حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے دو سال پہلے پیدا ہوئے اسی لیے صحابی نہیں تابعی ہیں،اپنے والد سہل اور ابوسعید خدری سے روایات کرتے ہیں،بانوے سال عمر ہوئی، ۱۰۰∞ ہجری میں وفات ہوئی ۔
۲؎حضرت عامر دو ہجرتوں والے صحابی ہیں ،بدر اور تمام غزوات میں حاضر ہوئے ،حضرت عمر سے پہلے اسلام لائے، ۳۲∞ میں وفات پائی اور سہل ابن حنیف انصاری اوسی ہیں بدر اور تمام غزوات میں شریک رہے،بعد میں حضرت علی کے ساتھ رہے،کوفہ میں ۳۸∞ اڑتیس میں وفات ہوئی،حضرت علی نے آپ کو پہلے مدینہ منورہ کا پھر فارس کا حاکم بنایا۔
۳؎مخباۃبنا ہےخباءسے بمعنی خیمہ و پردہمخباۃکنواری پردہ نشین لڑکی کو کہتے ہیں اب بمعنی محفوظ استعمال ہوتا ہے یہاں اسی معنی میں ہے،حضرت سہل بہت خوبصورت نازک اندام تھے یعنی کیسی چکنی کھال ہے جس سے بدن کی ہڈیاں چھپی ہوتی ہیں جیسے دیوار پر لیس یا سیمنٹ کا پلستر اس سے کھال کی نرمی اور تندرستی مراد ہے۔کہا تعجب سے جس سے نظر لگ گئی۔
۴؎یعنی حضرت سہل کو نظر لگ گئی جس سے وہ بے ہوش ہوگئے۔
۵؎یعنی نظر لگانا نہ لگانا خود نظر والے کے اختیار میں ہے اگر کسی پسندیدہ چیز کو دیکھ کرماشاءاللهیابارك اللهکہہ دے تو نظر نہیں لگتی اگر ان کلمات کے بغیر ہی تعجب سے دیکھے اور تعجب کے الفاظ بولے تو نظر لگ جاتی ہے۔
۶؎یعنی اپنی نظر کا اثر دور کرنے کے لیے اپنا چہرہ اپنے ہاتھ اور کہنیاں،گھٹنے،پاؤں دھوکر پانی دو تاکہ ان پر چھڑکا جاوے جیساکہ آگے آرہا ہے۔
۷؎تہبند کے داخلی حصہ میں تین احتمال ہیں: یا تو خود تہبند کا پلو مراد ہے جو جسم سے متصل ہو یا نظر والے کی ران و سرین مراد ہیں یا اعضاء تناسل اسی طرح کہ اس سے استنجاء بھی کرایا گیا اور پھر یہ پانی منظور پر چھڑکا گیا۔
۸؎یہ نظر اتارنے کا ایک ٹوٹکہ ہے۔معلوم ہوا کہ نظر کے لیے جائز ٹوٹکے کرنا درست ہے۔یہاں مرقات نے نظر اتارنے کے بہت ٹوٹکے بیان فرمائے۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نظر والے کو اعضاء بدن دھوکر دینا واجب ہے جب کہ اس سے یہ مطالبہ ہو کیونکہ یہ دفع نقصان کا ذریعہ ہے جب کہ کچا لہسن،کچی پیاز کھا کر مسجد میں آنا منع ہے تاکہ نمازیوں کو تکلیف نہ ہو تو یہ بھی ضروری ہے۔قاضی عیاض نے فرمایا کہ بعض لوگوں کی نظر بہت تیز ہوتی ہے مسلمانوں کو ان سے بچنا چاہیے بلکہ ایسے لوگوں کو حاکم مجمعوں میں جانے سے روک سکتا ہے۔حضرت عمر رضی الله عنہ نے ایک کوڑھی کو مجمعوں میں جانے سے روکا تھا پھر خلفاء نے یہ عمل جاری فرمایا۔(مرقات)۹؎یعنی نظر والے کو وضو کا حکم دیا پھر وضو کا غسالہ منظور پر چھینٹا مار دیا۔خیال رہے کہ جب دواؤں کی تاثیر میں ہماری عقل کام نہیں کرتی تو ان ٹوٹکوں میں کام نہ کرے گی لہذا ان اعمال پر اعتراض کرنا بے جا ہے۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4562