Main Icon

باب:دواؤں اور دعاؤں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4562

دواؤں اور دعاؤں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ قَالَ: رَأٰى عَامِرُ بْنُ رَبِيعَةَ سَهْلَ بْنَ حُنَيْفٍ يَغْتَسِلُ فَقَالَ: وَاللّٰهِ مَا رَأَيْتُ كَالْيَوْمِ وَلَا جِلْدَ مُخَبَّأَةٍ قَالَ: فَلُبِطَ سَهْلٌ فَأُتِيَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقِيلَ لَهٗ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ هَلْ لَكَ فِي سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ؟ وَاللّٰهِ مَا يَرْفَعُ رَأْسَهٗ فَقَالَ: «هَلْ تَتَّهِمُونَ لَهٗ أَحَدًا؟» فَقَالُوا: نَتَّهِمُ عَامِرَ بْنَ رَبِيعَةَ قَالَ: فَدَعَا رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامِرًا فَتَغَلَّظَ عَلَيْهِ وَقَالَ: «عَلَامَ يَقْتُلُ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ؟ أَلَا بَرَّكْتَ؟ اغْتَسِلْ لَهٗ» . فَغَسَلَ لَهٗ عَامِرٌ وَجْهَهٗ وَيَدَيْهِ وَمِرْفَقَيْهِ وَرُكْبَتَيْهِ وَأَطْرَافَ رِجْلَيْهِ وَدَاخِلَةَ إِزَارِهٖ فِي قَدَحٍ ثُمَّ صُبَّ عَلَيْهِ فَرَاحَ مَعَ النَّاسِ لَيْسَ لَهٗ بَأْسٌ. رَوَاهُ فِي “شَرْحِ السُّنَّةِ”. وَرَوَاهُ مَالِكٌ وَفِي رِوَايَتِهٖ : قَالَ: «إِنَّ الْعَيْنَ حَقٌّ تَوَضَّأ لَهٗ" فَتَوَضَّأَ لَهٗ»

وعن أبي أمامة بن سهل بن حنيف قال: رأى عامر بن ربيعة سهل بن حنيف يغتسل فقال: والله ما رأيت كاليوم ولا جلد مخبأة قال: فلبط سهل فأتي رسول الله صلى الله عليه وسلم فقيل له: يا رسول الله هل لك في سهل بن حنيف؟ والله ما يرفع رأسه فقال: «هل تتهمون له أحدا؟» فقالوا: نتهم عامر بن ربيعة قال: فدعا رسول الله صلى الله عليه وسلم عامرا فتغلظ عليه وقال: «علام يقتل أحدكم أخاه؟ ألا بركت؟ اغتسل له» . فغسل له عامر وجهه ويديه ومرفقيه وركبتيه وأطراف رجليه وداخلة إزاره في قدح ثم صب عليه فراح مع الناس ليس له بأس. رواه في “شرح السنة”. ورواه مالك وفي روايته : قال: «إن العين حق توضأ له" فتوضأ له»

حدیث ترجمہ

روایت ہے ابو امامہ ابن سہل ابن حنیف سے ۱∞؎فرماتے ہیں کہ عامر ابن ربیعہ نے سہل ابن حنیف کو دیکھا ۲؎جو نہارہے تھے تو بولے الله کی قسم میں نے آج کا سا دن دیکھا نہ ایسی محفوظ کھالی ۳؎فرماتے ہیں کہ فورًا سہل گر گئے پھر رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں حاضری دی گئی تو عرض کیا گیا یارسول الله کیا حضور کو سہل ابن حنیف کے علاج میں رغبت ہے خدا کی قسم وہ تو اپنا سر بھی نہیں اٹھاتے ۴؎تو فرمایا کیا تم انکے متعلق کسی پر شبہ کرتے ہو بولے ہم عامر ابن ربیعہ پر شبہ کرتے ہیں فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے عامر کو بلایا ان پر ناراض ہوئے اور فرمایا کہ تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو کیوں قتل کرتا ہے تم نے دعاء برکت کیوں نہ کی ۵؎اچھا اب ان کے لیے دھوؤ ۶؎چنانچہ عامر نے ان کے لیے اپنا منہ اور ہاتھ کہنیاں اور گھٹنے اور اپنے پاؤں کے کنارے اور تہند کا داخلی حصہ ۷؎ایک پیالہ میں دھویا پھر اس پر ڈالا گیا چنانچہ وہ لوگوں کے ساتھ چل دیا اسے کوئی تکلیف نہ تھی ۸؎(شرح)اسے مالک نے بھی روایت کیا اور ان کی روایت میں ہے کہ فرمایا نظر حق ہے تم اس کے لیے وضو کرو انہوں نے وضو کیا ۹؎

شرح حدیث

۱∞؎آپ کا نام سعد ابن سہل ہے،کنیت ابو امامہ ،حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے دو سال پہلے پیدا ہوئے اسی لیے صحابی نہیں تابعی ہیں،اپنے والد سہل اور ابوسعید خدری سے روایات کرتے ہیں،بانوے سال عمر ہوئی، ۱۰۰؁∞ ہجری میں وفات ہوئی ۔
۲
؎حضرت عامر دو ہجرتوں والے صحابی ہیں ،بدر اور تمام غزوات میں حاضر ہوئے ،حضرت عمر سے پہلے اسلام لائے، ۳۲؁∞ میں وفات پائی اور سہل ابن حنیف انصاری اوسی ہیں بدر اور تمام غزوات میں شریک رہے،بعد میں حضرت علی کے ساتھ رہے،کوفہ میں ۳۸؁∞ اڑتیس میں وفات ہوئی،حضرت علی نے آپ کو پہلے مدینہ منورہ کا پھر فارس کا حاکم بنایا۔
۳
؎مخباۃبنا ہےخباءسے بمعنی خیمہ و پردہمخباۃکنواری پردہ نشین لڑکی کو کہتے ہیں اب بمعنی محفوظ استعمال ہوتا ہے یہاں اسی معنی میں ہے،حضرت سہل بہت خوبصورت نازک اندام تھے یعنی کیسی چکنی کھال ہے جس سے بدن کی ہڈیاں چھپی ہوتی ہیں جیسے دیوار پر لیس یا سیمنٹ کا پلستر اس سے کھال کی نرمی اور تندرستی مراد ہے۔کہا تعجب سے جس سے نظر لگ گئی۔
۴
؎یعنی حضرت سہل کو نظر لگ گئی جس سے وہ بے ہوش ہوگئے۔
۵
؎یعنی نظر لگانا نہ لگانا خود نظر والے کے اختیار میں ہے اگر کسی پسندیدہ چیز کو دیکھ کرماشاءاللهیابارك اللهکہہ دے تو نظر نہیں لگتی اگر ان کلمات کے بغیر ہی تعجب سے دیکھے اور تعجب کے الفاظ بولے تو نظر لگ جاتی ہے۔
۶
؎یعنی اپنی نظر کا اثر دور کرنے کے لیے اپنا چہرہ اپنے ہاتھ اور کہنیاں،گھٹنے،پاؤں دھوکر پانی دو تاکہ ان پر چھڑکا جاوے جیساکہ آگے آرہا ہے۔
۷
؎تہبند کے داخلی حصہ میں تین احتمال ہیں: یا تو خود تہبند کا پلو مراد ہے جو جسم سے متصل ہو یا نظر والے کی ران و سرین مراد ہیں یا اعضاء تناسل اسی طرح کہ اس سے استنجاء بھی کرایا گیا اور پھر یہ پانی منظور پر چھڑکا گیا۔
۸
؎یہ نظر اتارنے کا ایک ٹوٹکہ ہے۔معلوم ہوا کہ نظر کے لیے جائز ٹوٹکے کرنا درست ہے۔یہاں مرقات نے نظر اتارنے کے بہت ٹوٹکے بیان فرمائے۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نظر والے کو اعضاء بدن دھوکر دینا واجب ہے جب کہ اس سے یہ مطالبہ ہو کیونکہ یہ دفع نقصان کا ذریعہ ہے جب کہ کچا لہسن،کچی پیاز کھا کر مسجد میں آنا منع ہے تاکہ نمازیوں کو تکلیف نہ ہو تو یہ بھی ضروری ہے۔قاضی عیاض نے فرمایا کہ بعض لوگوں کی نظر بہت تیز ہوتی ہے مسلمانوں کو ان سے بچنا چاہیے بلکہ ایسے لوگوں کو حاکم مجمعوں میں جانے سے روک سکتا ہے۔حضرت عمر رضی الله عنہ نے ایک کوڑھی کو مجمعوں میں جانے سے روکا تھا پھر خلفاء نے یہ عمل جاری فرمایا۔(مرقات)۹؎یعنی نظر والے کو وضو کا حکم دیا پھر وضو کا غسالہ منظور پر چھینٹا مار دیا۔خیال رہے کہ جب دواؤں کی تاثیر میں ہماری عقل کام نہیں کرتی تو ان ٹوٹکوں میں کام نہ کرے گی لہذا ان اعمال پر اعتراض کرنا بے جا ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4562