Main Icon

باب:دواؤں اور دعاؤں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4545

دواؤں اور دعاؤں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ عُثْمَانَ: إِنَّ طَبِيبًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ضِفْدَعٍ يَجْعَلُهَا فِي دَوَاءٍ فَنَهَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَتْلِهَا. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ

وعن عبد الرحمن بن عثمان: إن طبيبا سأل النبي صلى الله عليه وسلم عن ضفدع يجعلها في دواء فنهاه النبي صلى الله عليه وسلم عن قتلها. رواه أبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبدالرحمن ابن عثمان سے کہ کسی طبیب نے نبی صلی الله علیہ وسلم سے مینڈک کے متعلق پوچھا ۱∞؎جسے کسی دوا میں ڈالا جاوے تو اسے نبی صلی الله علیہ وسلم نے اس کے قتل سے منع فرمایا ۲؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎یہ سوال مطلقًا مینڈک کے متعلق تھا دریائی ہو یا خشکی کا دونوں قسم کے مینڈکوں کی تاثیریں جداگانہ ہیں۔۲؎فرمایا کہ مینڈک کو قتل نہ کرو خواہ دوا کے لیے ہو یا کسی اور مقصد کے لیے یا بلا مقصد کے کیونکہ نہ تو یہ موذی ہے نہ حلال ہے نہ لذیذ۔حرا م،خبیث،غیرمفید جانور کا مارنا بلاوجہ ہی مارنا ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ مینڈک کھانا حرام ہے لہذا یہ حدیث احناف کی دلیل ہے،یہ بھی معلوم ہوا کہ مینڈک کسی بیماری میں مفید نہیں،بعض لوگ ایک خاص قسم کے مینڈک کا تیل قوت باہ کے لیے استعمال کرتے ہیں محض غلط و ممنوع ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4545