Main Icon

باب:دواؤں اور دعاؤں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4532

دواؤں اور دعاؤں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ قَالَ: قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ أَفَنَتَدَاوٰى قَالَ: «نَعَمْ يَا عِبادَاللّٰهِ تَدَاوَوْا فَإِنَّ اللّٰهَ لَمْ يَضَعْ دَاءً إِلَّا وَضَعَ لَهٗ شِفَاءً غَيْرَ دَاءٍ وَاحِدٍ الْهَرَمِ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ

عن أسامة بن شريك قال: قالوا: يا رسول الله أفنتداوى قال: «نعم يا عبادالله تداووا فإن الله لم يضع داء إلا وضع له شفاء غير داء واحد الهرم» . رواه أحمد والترمذي وأبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت اسامہ ابن شریک سے فرماتے ہیں کہ لوگوں نے عرض کیا یارسول الله کیا ہم دوا دارو کریں فرمایا ہاں اے الله کے بندو دوا کرو کیونکہ الله نے کوئی بیماری نہیں پیدا فرمائی مگر اس کے لئے شفاء رکھی سواء ایک بیماری بڑھاپے کے ۱∞؎(احمد،ترمذی، ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی دوا علاج توکل کے خلاف نہیں جیسے بھوک کا علاج غذا ہے،پیاس کا علاج پانی ہے اگر دوائیں بیماریوں کا علاج ہوں تو کیا بعید ہے اسی لیےعباد اللهفرماکر دوا کرنے کا حکم دیا تاکہ معلوم ہو کہ دوا عبودیت کے خلاف نہیں۔بڑھاپے کو بیماری اس لیے فرمایا گیا کہ بڑھاپے کے بعد موت ہے جیسے بیماری کےبعد موت ہوتی ہے،نیز بڑھاپے میں بہت بیماریاں دبالیتی ہیں۔
لطیفہ: ایک بوڑھے آدمی نے کسی طبیب سے کہا کہ میری نگاہ موٹی ہوگئی ہے طبیب نے کہا بڑھاپے کی وجہ سے،وہ بولا اونچا سننے لگا ہوں جواب ملا بڑھاپے کی وجہ سے،بولا کمر ٹیڑھی ہوگئی ہے کہا بڑھاپے کی وجہ سے، آخر میں بوڑھا بولا کہ جاہل طبیب تجھے بڑھاپے کے سواء کچھ نہیں آتا جواب ملا یہ بے موقعہ غصہ بھی بڑھاپے کی وجہ سے ہے۔(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4532