Main Icon

باب:دواؤں اور دعاؤں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4524

دواؤں اور دعاؤں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أُمِّ قَيْسٍ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسلم: «عَلَى مَاتَدْغَرْنَ أَوْلَادَكُنَّ بِهٰذَا الْعُلَاقِ؟ عَلَيْكُنَّ بِهٰذَا الْعُودِ الْهِنْدِيِّ فَإِنَّ فِيهِ سَبْعَةَ أَشْفِيَةٍ مِنْهَا ذَاتُ الْجَنْبِ يُسْعَطُ مِنَ الْعُذْرَةِ وَيُلَدُّ مِنْ ذَاتِ الْجَنْبِ »(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن أم قيس قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «على ماتدغرن أولادكن بهذا العلاق؟ عليكن بهذا العود الهندي فإن فيه سبعة أشفية منها ذات الجنب يسعط من العذرة ويلد من ذات الجنب »(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ام قیس سے ۱∞؎فرماتی ہیں فرمایا رسو ل الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ تم اپنی اولاد کو اس گلہ آنے سے کیوں دباتی ہو۲؎تم اس عود ہندی کو اختیارکرو ۳؎کہ اس میں سات شفائیں ہیں ان میں سے ذات الجنب بھی ہے گلے آنے سے نسوارلی جاوے اور ذات الجنب سے لیپ کیا جاوے ۴؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎آپ ام قیس بنت محصن اسدیہ ہیں،حضرت عکاشہ کی بہن قدیم الاسلام ہیں،ہجرت سے پہلے ایمان لائیں،آپ کو مہاجر ام قیس کہا جاتا ہے۔
۲
؎ان لفظوں کے معنی ابھی پچھلی حدیث میں عرض کیے گئے کہ حضور صلی الله علیہ وسلم عورتوں کو گلے آنے پر حلق دبانے سے منع فرمارہے ہیں۔علاقبمعنیعلوقہے یعنی حلقوم کی آفت ناگہانی گلے کی گلٹیاں۔
۳
؎عود ہندی نام ہے قسط بحری کا جس کا ذکر ابھی ہوا،بعض شارحین نے فرمایا کہ یہ قسط ہندی کا نام ہے دونوں قسط گلے آنے میں مفید ہیں۔
۴
؎یعنی گلہ آنے میں قسط بحری کو پانی میں حل کر کے ناک میں نسوارکراؤ اور پسلیوں کے درد میں اس کا پسلیوں پر لیپ کرو، ذات الجنب بڑا تکلیف دہ بلکہ مہلک مرض ہے اس میں بھی یہ دوا مفید ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4524