Main Icon

باب:دواؤں اور دعاؤں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4569

دواؤں اور دعاؤں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ إِنَّ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالُوا لِرَسُولِ اللهِ: الْكَمْأَةُ جُدَرِيُّ الْأَرْضِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْكَمْأَةُ مِنَ الْمَنِّ وَمَاؤُهَا شِفَاءٌ لِلْعَيْنِ وَالْعَجْوَةُ مِنَ الْجَنَّةِ وَهِيَ شِفَاءٌ مِنَ السُّمِّ» . قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: فَأَخَذْتُ ثَلَاثَةَ أَكْمُؤٍ أَوْ خَمْسًا أَوْ سَبْعًا فَعَصَرْتُهُنَّ وَجَعَلْتُ مَاءَهُنَّ فِي قَارُورَةٍ وَكَحَّلْتُ بِهٖ جَارِيَةً لِي عَمْشَاءَ فَبَرَأَتْ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ

وعن أبي هريرة إن ناسا من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم قالوا لرسول الله: الكمأة جدري الأرض؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «الكمأة من المن وماؤها شفاء للعين والعجوة من الجنة وهي شفاء من السم» . قال أبو هريرة: فأخذت ثلاثة أكمؤ أو خمسا أو سبعا فعصرتهن وجعلت ماءهن في قارورة وكحلت به جارية لي عمشاء فبرأت. رواه الترمذي وقال: هذا حديث حسن

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے کچھ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا کہ کھمبی زمین کی چیچک ہے ۱∞؎تو فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھمبی من سے ہے ۲؎اور اس کا پانی آنکھ کے لیے شفا ہے۳؎اور عجوہ جنت سے ہے اور وہ زہر سے شفا ہے۴؎ابوہریرہ نے فرمایا کہ پھر میں نے تین یا چار یا پانچ یا سات کھمبیاں لیں انہیں نچوڑا اور ان کا پانی ایک شیشی میں ڈال لیا ایک ضیف البصر ۵؎لونڈی کی آنکھ میں اس کا سرمہ لگایا وہ اچھی ہوگئی ۶؎(ترمذی)اور فرمایایہ حدیث حسن ہے۔

شرح حدیث

۱∞؎کماتکا اردو ترجمہ ہے کھمبی جو برسات میں بھیگی لکڑی سے چھتری کی طرح نکلتی ہے اسے سانپ کی چھتری بھی کہتے ہیں۔ ان کا مطلب یہ تھا کہ جیسے چیچک انسان کی کھال کے نیچے سے ردی بلغمی فضلات سے نمودار ہوتی ہے ایسے ہی کھمبی زمین کے نیچے سے نمودار ہوتی ہے یہ بھی زمین کی بیماری ہے۔
۲
؎یعنی جیسے بنی اسرائیل پرمناترا تھا بغیر مشقت نہایت لذیذومفید کھانا ایسے ہی یہ کھمبی بغیر مشقت ہم کو مل جاتی ہے بغیر محنت و مشقت سے بہت نافع اس کی شرح پہلے گزر چکی۔کھمبی دو قسم کی ہے۔ایک چھتری نما اور ایک مولِی کی طرح لمبی یہاں دوسری قسم مراد ہے۔
۳
؎آنکھ کی گرمی دفع کرنے کے لیے صرف یہ پانی مفید ہے،دوسرے چشمی امراض میں یہ پانی سرمہ میں ڈال کر یا دوسری دواؤں میں ملاکر مفید ہے بعض امراض میں نقصان دہ لہذا اس کا استعمال طبیب کی رائے سے کرنا چاہیے۔غالبًا اہل عرب کی آنکھ کی بیماریاں عمومًا ایسی ہوتی ہوں گی جن میں یہ پانی مفید ہو۔(مرقات)اور اشعۃ اللمعات میں ہے کہ ایک بزرگ نابینا ہوگئے تھے انہوں نے اعتقاد سے یہ پانی استعمال کیا انہیں گئی ہوئی روشنی ملی ان کا نام ابن کمال دمشقی ہے۔
۴
؎یعنی عجوہ کھجوریں جنت سے آئی ہیں اللہ کی بڑی نعمت ہے اس کو صبح شام کھانے والا زہر کے اثر سے محفوظ رہتا ہے یعنی اس پر زہر اثر نہیں کرتا،اس کی شرح بھی پہلے کی جاچکی ہے وہاں مطالعہ فرمانا چاہیے۔
۵
؎عمشاءمؤنث ہےاعمشکیاعمشوہ شخص ہے جو ضعیف البصر ہو۔اس کی آنکھوں سے پانی جاری ہو۔ یہاں تین یا پانچ یا سات فرمانا کسی راوی کے شک سے ہے ابوہریرہ کی طرف سے شک نہیں۔
۶
؎ظاہر یہ ہے کہ خالص پانی ہی لگایا گیا۔اس فرمان کا مقصد یہ ہے کہ یہ حدیث تجربہ سے بھی قوی ہے حدیث کو قوت بہت وجہ سے حاصل ہوتی ہے جن میں سے ایک وجہ تجربہ بھی ہے یہاں اسی کا ذکر ہے۔اس کی تحقیق ہماری کتاب جاء الحق حصہ دوم میں ملاحظہ کرو۔گویا یہ حضور انور کا فرمان ہے اور ایک صحابی کا تجربہ لہذا حدیث بہت قوی ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4569