Main Icon

باب:دواؤں اور دعاؤں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4567

دواؤں اور دعاؤں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: بَيْنَا رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ يُصَلِّي فَوَضَعَ يَدَهٗ عَلَى الأَرْضِ فَلَدَغَتْهُ عَقْرَبٌ فَنَاوَلَهَا رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَعْلِهٖ فَقَتَلَهَا فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: «لَعَنَ اللّٰهُ الْعَقْرَبَ مَا تَدَعُ مُصَلِّيًا وَلَا غَيْرَهٗ أَوْ نَبِيًّا وَغَيْرَهُ» ثُمَّ دَعَا بِمِلْحٍ وَمَاءٍ فَجَعَلَهٗ فِي إِناءٍ ثمَّ جَعَلَ يَصُبُّهٗ عَلٰى أُصْبُعِهٖ حَيْثُ لَدَغَتْهُ وَيَمْسَحُهَا وَيُعَوِّذُهَا بِالْمُعَوِّذَتَيْنِ. رَوَاهُمَا الْبَيْهَقِيُّ فِي “شُعَبِ الإِيمَانِ”

وعن علي قال: بينا رسول الله صلى الله عليه وسلم ذات ليلة يصلي فوضع يده على الأرض فلدغته عقرب فناولها رسول الله صلى الله عليه وسلم بنعله فقتلها فلما انصرف قال: «لعن الله العقرب ما تدع مصليا ولا غيره أو نبيا وغيره» ثم دعا بملح وماء فجعله في إناء ثم جعل يصبه على أصبعه حيث لدغته ويمسحها ويعوذها بالمعوذتين. رواهما البيهقي في “شعب الإيمان”

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں کہ اس درمیان کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک رات نماز پڑھ رہے تھے آپ نے اپنا ہاتھ زمین پر رکھا تو بچھو نے کاٹ لیا ۱∞؎تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے جوتہ شریف سے اسے مارا حتی کہ اسے قتل کردیا پھر جب فارغ ہوئے تو فرمایا اللہ بچھو پر لعنت کرے نمازی غیر نمازی نبی غیرنبی کسی کو نہیں چھوڑتا ۲؎پھر نمک اور پانی منگایا پھر اسے برتن میں ڈالا پھر اسے اپنی انگلی پر ڈالنے لگے جہاں بچھو نے کاٹا تھا اسے پونچھنے لگے اور اس پر فلق و ناس سے دم کرنے لگے ۳؎(بیہقی شعب الایمان)

شرح حدیث

۱∞؎آپ کی بائیں ہاتھ کی انگلی شریف میں کاٹ لیا جسم نبی پر زہر،ڈنگ تلوار اثر کرسکتی ہے یہ واردات بشریت پر وارد ہوتی ہے
۲
؎بعض روایات میں ہے کہ اسے مار کر فرمایا کہ بچھو موذی ہے اسے حل و حرم ہر جگہ مار دو۔موذی وہ جانور ہے جو اپنے نفع کے بغیر انسان کا نقصان کردے لہذا کھٹمل جوں موذی نہیں کہ انسان کو کاٹتی ہے مگر اپنا پیٹ بھرنے کے لیے۔
۳
؎یہ ہے دوا اور دعا کا اجتماع نمک و پانی بھڑ(تنبوڑی)اور بچھو وغیرہ کے کاٹے کے لیے بہت مفید ہے۔یمسحھاسے معلوم ہوا کہ دم کرتے وقت بیماری کی جگہ پر ہاتھ پھیرنا سنت ہے،بعض روایات میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ایسے مریض پر سورۂ فاتحہ پڑھ کر دم فرماتے تھے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4567